Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
نئی نسل کی کامیڈی نوجوانوں کے لئے خطرہ ہے: سنیل پال

نئی نسل کی کامیڈی نوجوانوں کے لئے خطرہ ہے: سنیل پال

Awaz The Voice 1 week ago

ممبئیسینئر اسٹینڈ اَپ کامیڈین سنیل پال نے جدید کامیڈی میں بڑھتی ہوئی فحاشی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گالی گلوچ اور غیر اخلاقی مواد نوجوان ناظرین پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور صاف ستھری تفریح کی روایت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ سنیل پال نے اپنی ابتدائی زندگی، مہاراشٹر-تلنگانہ سرحد کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے سے ممبئی کی تفریحی صنعت تک کے سفر اور موجودہ اسٹینڈ اَپ کامیڈی کے رجحان سے اپنے اختلاف پر بات کی۔ پال نے بتایا کہ وہ مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے بلہار شاہ میں پلے بڑھے، جہاں بچپن میں انہوں نے خود اور اپنے خاندان کی مدد کے لیے کئی چھوٹے موٹے کام کیے۔انہوں نے کہا کہ م یں ڈبل روٹیاں بیچتا تھا، پتنگیں فروخت کرتا تھا، کمہار کا کام کرتا تھا۔ سالگرہ کی تقریبات میں مکی ماؤس بنتا تھا۔ ہفتہ وار بازار میں سبزی کی دکان پر معاون کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ کامیڈین نے یاد کیا کہ مالی مشکلات کے باوجود وہ فلموں اور موسیقی کے شوق کو زندہ رکھنے کے لیے پرانی کتابیں اور سیکنڈ ہینڈ کپڑے خریدا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی سینما گھروں کے ملازمین سے دوستی کر لیتے تھے تاکہ فلمیں دیکھ سکیں اور گانے سن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں امیتابھ بچن، متھن چکرورتی، شتروگھن سنہا، اوم پرکاش جی، کشور کمار اور محمد رفیع کو سنا کرتا تھا۔اپنی زندگی کے ایک اہم لمحے کا ذکر کرتے ہوئے سنیل پال نے بتایا کہ ایک ریلوے تقریب میں انہیں انعام کے طور پر اسٹیل کا ایک پیالہ ملا تھا، جس پر ان کے والد نے انہیں ایک نصیحت کی تھی۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد نے کہا تھا، 'جہاں سے علم ملے، علم حاصل کرو۔ جہاں محبت ملے، دعائیں حاصل کرو۔ اور جو کچھ بھی ملے، اسے اس پیالے میں جمع کرتے رہو۔ پال نے کامیڈی کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی جدوجہد کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ناگپور میں کام کرتے تھے، تین پہیوں والا رکشہ چلاتے تھے، اور بعد میں آرکسٹرا اور اسٹیج شوز میں کام کی تلاش میں ممبئی آ گئے۔بعد میں انہوں نے آرکسٹرا پروگراموں میں اداکاروں کی نقل اتارنا اور میمکری کرنا شروع کی، جن میں شاہ رخ خان، سلمان خان، نانا پاٹیکر اور امول پالیکر شامل تھے۔ آج کے کامیڈی کلچر پر بات کرتے ہوئے سنیل پال نے ان تخلیق کاروں پر تنقید کی جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مقبولیت حاصل کرنے کے لیے گالی گلوچ اور فحش مواد کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیوب پر کوئی سنسر نہیں ہے اور مزید کہا کہ بہت سے تخلیق کار ''شارٹ کٹ کے چکر میں نئی نسل کا مستقبل برباد کر رہے ہیں۔پال نے کہا کہ آج کل کے کئی اسٹینڈ اَپ شوز میں ''گالی، شراب'' اور غیر مہذب مذاق پر ضرورت سے زیادہ زور دیا جاتا ہے، جبکہ تخلیقی صلاحیت اور خاندانی تفریح کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے 10 سے 15 منٹ کے اسٹینڈ اَپ میں یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ بڑوں کا احترام نہیں کرتے۔کامیڈین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کئی فنکار نجی طور پر ان کی تشویش سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن عوامی طور پر اس بارے میں بولنے سے گریز کرتے ہیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu