Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
اناؤ عصمت دری کیس :  کلدیپ سینگر کو بڑا جھٹکا

اناؤ عصمت دری کیس : کلدیپ سینگر کو بڑا جھٹکا

Awaz The Voice 1 week ago

نئی دہلیسپریم کورٹ سے جمعہ کے روز بی جے پی کے سابق رکنِ اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اعلیٰ عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے اُس فیصلے پر روک لگا دی، جس میں 2017 کے اناؤ ریپ معاملے میں کلدیپ سنگھ سینگر کی جیل سزا کو معطل کر دیا گیا تھا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے میں سینگر کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر جلد از جلد، زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اپیل پر جلد فیصلہ ممکن نہ ہو تو ہائی کورٹ کو سینگر کی سزا معطلی کی درخواست پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ عدالت نے یہ حکم مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے دائر اپیل پر سنایا، جس میں ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے، ریپ معاملے میں سزا کے خلاف اپیل زیرِ سماعت رہنے تک انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اعلیٰ عدالت نے کہا کہ ہم اپیل منظور کرتے ہیں۔ متنازع حکم منسوخ کیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ دو ماہ کے اندر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر اپیل پر سماعت ممکن نہ ہو، تو سزا معطلی کی درخواست سے متعلق نیا حکم جاری کیا جائے۔ مقدمے کے میرٹ پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی سزا معطلی کی درخواست اس عدالت کے حکم سے متاثر ہوگی۔ گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے سے پہلے مناسب حکم جاری کیا جائے۔ آج کی سماعت کے دوران عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے اُس ابتدائی مشاہدے پر بھی اعتراض ظاہر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ دینے والے قانون (پوکسو ایکٹ) کے تحت سنگین جنسی استحصال کا جرم سینگر پر لاگو نہیں ہوتا۔ قابلِ ذکر ہے کہ پوکسو ایکٹ کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم جنسی استحصال میں ملوث ہو تو یہ ''سنگین جنسی استحصال'' کے زمرے میں آتا ہے۔ہائی کورٹ نے اپنے ضمانت اور سزا معطلی کے حکم میں کہا تھا کہ سنگین جنسی استحصال کے معاملے میں سینگر کو سخت معنوں میں سرکاری ملازم یا ''اعتماد یا اختیار کے منصب پر فائز شخص'' نہیں مانا جا سکتا۔ یہی ان بنیادی نکات میں سے ایک تھا، جس کی بنیاد پر سینگر کی سزا معطل کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس مؤقف سے سخت اختلاف ظاہر کیا۔ جسٹس باگچی نے کہا، ''ہم ہائی کورٹ کے حد سے زیادہ تکنیکی نتیجے کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ ایک تعزیری قانون ہے، جس کا مقصد بچوں کو جنسی استحصال سے بچانا ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں سینگر کے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا۔دریں اثنا، سینگر کے وکیل اور سینئر ایڈووکیٹ این ہری ہرن نے سوال اٹھایا کہ آیا واقعی پوکسو ایکٹ اس معاملے میں لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ ہری ہرن نے عدالت کو بتایا کہ میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ متاثرہ لڑکی نابالغ نہیں تھی۔ ایمس بورڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ نابالغ نہیں تھی۔ تمام رپورٹس سینگر کے حق میں ہیں، اس کے باوجود وہ جیل میں ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu