نئی دہلیہریانہ میں بینک گھوٹالے سے متعلق ایک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے چندی گڑھ اور پنچکولہ میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور مالیاتی دستاویزات و ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے۔ حکام نے جمعہ کے روز یہ جانکاری دی۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 'آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک' اور 'اے یو اسمال فائننس بینک' کے بعض افسران نے ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے ملازمین کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کر کے سرکاری فنڈز میں خرد برد کی۔ ایجنسی نے کہا کہ ہریانہ حکومت نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے۔بیان کے مطابق 14 مئی کو ملزمان کے گھروں، کاروباری اداروں، زیورات فروشوں کی دکانوں، سرکاری رقم کے مشتبہ فائدہ اٹھانے والوں کے مقامات اور تفتیش سے جڑے دیگر نجی ٹھکانوں سمیت سات مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ چھاپوں کے دوران دھوکہ دہی اور مشتبہ خرد برد سے متعلق کئی اہم دستاویزات اور اشیا برآمد اور ضبط کی گئیں۔ ان میں مالیاتی ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد شامل ہیں۔ ایجنسی کے مطابق اب تک اس معاملے میں 16 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سی بی آئی نے جانچ میں تیزی لا دی ہے اور کئی اہم سراغوں کی چھان بین جاری ہے۔

