نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعہ کی صبح ایران کے وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات کی، جو نئی دہلی میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ اس ملاقات میں مغربی ایشیا کی صورتحال اور اس کے عالمی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ "تفصیلی گفتگو" کی۔ انہوں نے لکھا: "آج صبح نئی دہلی میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔" انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
جے شنکر کے مطابق، "ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال اور اس کے اثرات پر گفتگو کی۔ ساتھ ہی باہمی دلچسپی کے امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔" انہوں نے برکس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا: "برکس انڈیا 2026 میں ان کی شرکت قابلِ تحسین ہے۔"
اس سے قبل جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی، جو برکس اجلاس کے موقع پر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممالک کو امریکی "دباؤ" اور "بدمعاشی" کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور ایسے رویوں کو تاریخ کے "کوڑے دان" میں ڈال دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک امریکی دباؤ کی مختلف شکلوں کا سامنا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ برکس ممالک مل کر اس کا جواب دیں۔
عراقچی نے مزید کہا: "ہماری مزاحمت امریکی دباؤ کے خلاف کسی کے لیے نئی بات نہیں۔ ہمیں مشترکہ طور پر آگے بڑھ کر واضح کرنا ہوگا کہ یہ طریقے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور انہیں مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ اجتماعی طور پر کرنا ہوگا۔

