کولکتہمغربی بنگال اسمبلی کے کوچ بہار دکشن (جنوبی) حلقے سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رتھیندر بوس جمعہ کے روز مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہو گئے۔ ان کے انتخاب کے بعد وزیرِ اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اسمبلی کی روایت کے مطابق بوس کو ایوان میں اسپیکر کی کرسی تک پہنچایا۔ وزیرِ اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے جمعرات کو کہا تھا کہ حکمراں اتحاد نے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے کے لیے بوس کو نامزد کیا ہے۔ ادھیکاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ شری رتھیندر بوس، کوچ بہار دکشن (جنوبی) حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی، کو 18ویں مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے معزز اسپیکر کے عہدے کے لیے ہمارے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کی امیدواری کی سبھی حمایت کریں گے اور وہ متفقہ طور پر منتخب ہوں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے بوس کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ''وقف شدہ پارٹی کارکن'' ہیں اور پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوس انتظامی سمجھ بوجھ اور تنظیمی تجربہ دونوں رکھتے ہیں۔ادھیکاری نے کہا کہ انہوں نے کبھی رکن اسمبلی، وزیر یا اسپیکر جیسے کسی عہدے کے لیے درخواست نہیں دی۔ پارٹی نے ان کی لگن کو تسلیم کیا ہے۔ وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کی قیادت کے لیے تمام فریقوں سے تعاون چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے بھی اپیل کی کہ وہ اسپیکر کے انتخاب کو بلا مقابلہ بنا کر پارلیمانی روایت کو برقرار رکھے۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں اسپیکر کا انتخاب روایتی طور پر متفقہ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اپوزیشن اس روایت کو جاری رکھے گی۔رتھیندر بوس نے کوچ بہار حلقے سے 23,284 ووٹوں یعنی 11.4 فیصد کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے ترنمول کانگریس کے امیدوار ابھجیت دے بھومک کو شکست دی۔ وہ بی جے پی رکن اسمبلی تاپس رائے کی جگہ لیں گے، جنہوں نے منگل کے روز مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر کے طور پر حلف لیا تھا۔2026 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج بی جے پی کے لیے ایک فیصلہ کن مینڈیٹ ثابت ہوئے، جہاں پارٹی نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں جیت کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ انتخابات میں پارٹی کو صرف 77 نشستیں ملی تھیں۔ ترنمول کانگریس، جس نے پچھلے اسمبلی انتخابات میں 212 نشستیں حاصل کی تھیں، اس بار 80 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت ختم ہو گئی۔ کانگریس صرف دو نشستوں تک محدود رہی۔ کامیابی کے بعد سویندو ادھیکاری نے مغربی بنگال کے نویں وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔

