نئی دہلیلوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کے روز مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کیا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کی ''غلطیوں'' کی قیمت عوام چکا رہی ہے، اور دعویٰ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، جسے انہوں نے ''وصولی'' قرار دیا، قسطوں میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی غلطی، عوام ادا کرے گی قیمت۔ 3 روپے کا جھٹکا تو آ ہی چکا ہے۔ باقی وصولی قسطوں میں کی جائے گی۔یہ سخت ردِعمل اُس وقت سامنے آیا جب مرکز نے ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ نظرِ ثانی کے بعد نئی دہلی میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے سے بڑھ کر 97.77 روپے فی لیٹر ہو گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے سے بڑھ کر 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب مرکزی وزیر کرن رجیجو نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا تنازع کے سبب کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں 20 فیصد سے لے کر تقریباً 100 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ ہندوستان میں یہ اضافہ صرف 3.2 فیصد اور 3.4 فیصد تک محدود رکھا گیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقتصادی استحکام اور عوامی فلاح کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے، اور فیصلے کرتے وقت عوام کو ترجیح دی ہے۔رجیجو نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ جب دنیا مغربی ایشیا تنازع کے بعد بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں سے نبرد آزما تھی، تب ہندوستان الگ نظر آیا۔ جہاں کئی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے لے کر تقریباً 100 فیصد تک اضافہ ہوا، وہیں ہندوستان میں پٹرول پر صرف 3.2 فیصد اور ڈیزل پر 3.4 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور عالمی بازار غیر مستحکم ہو گئے، پھر بھی ہندوستان کی سرکاری تیل کمپنیوں نے کئی ہفتوں تک بھاری نقصان برداشت کیا تاکہ شہریوں کو مہنگائی اور اقتصادی دباؤ سے بچایا جا سکے۔ یہی ذمہ دار طرزِ حکمرانی ہے۔ یہی وہ قیادت ہے جو عوام کو ترجیح دیتی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اقتصادی استحکام اور عوامی فلاح کے درمیان توازن قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل اور ایران تنازع نے عالمی خام تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے۔

