Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟

پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟

Awaz The Voice 1 week ago

نئی دہلی: جمعہ کے روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جو گزشتہ چار سال سے زائد عرصے میں پہلی بار قیمتوں میں اضافہ ہے۔ یہ اضافہ عالمی خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آئل ریٹیلرز کو ہونے والے بھاری نقصانات کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔

یہ اضافہ ان چار ریاستوں آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے اختتام کے 16 دن بعد سامنے آیا۔ پولنگ کے دوران ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں، حالانکہ مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی تھیں۔ قومی دارالحکومت دہلی میں پیٹرول کی قیمت 94.77 روپے سے بڑھ کر 97.77 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت 87.67 روپے سے بڑھ کر 90.67 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق۔ اپریل 2022 کے بعد سے قیمتیں زیادہ تر منجمد تھیں، تاہم مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے عین قبل پیٹرول اور ڈیزل پر 2 روپے فی لیٹر کی ایک وقتی کمی کی گئی تھی۔ آخری بار باقاعدہ اضافہ اپریل 2022 میں ہوا تھا۔

ممبئی میں پیٹرول کی قیمت اب 106.68 روپے اور ڈیزل 93.14 روپے فی لیٹر ہے۔ کولکاتا میں پیٹرول 108.74 روپے اور ڈیزل 95.13 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ چنئی میں پیٹرول 103.67 روپے اور ڈیزل 95.25 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ قیمتوں میں فرق ریاستوں کے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کی شرحوں کے باعث ہوتا ہے۔ اگرچہ ایندھن کی قیمتیں باضابطہ طور پر ڈی ریگولیٹڈ ہیں، لیکن ان میں تبدیلیاں اکثر سیاسی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں اس وقت بڑھ گئیں جب 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو گئی-یہ وہ سمندری راستہ ہے جس سے دنیا کے پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

خام تیل کی قیمتیں اس دوران 120 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، جو تنازع سے پہلے 70-72 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں۔ بعد میں قیمتیں کچھ کم ہوئیں مگر اب بھی 104-110 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر ہیں۔ اس کے باعث سرکاری آئل کمپنیوں کو بھاری نقصان ہوا، لیکن ریٹیل قیمتیں انتخابات کے باعث تبدیل نہیں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق آئل کمپنیاں پیٹرول پر 14 روپے فی لیٹر، ڈیزل پر 42 روپے فی لیٹر اور ایل پی جی پر 674 روپے فی یونٹ نقصان اٹھا رہی تھیں۔ تیل کے وزیر ہر دیپ سنگھ پوری کے مطابق یہ کمپنیاں روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا نقصان کر رہی تھیں، اور ایک سہ ماہی کے مجموعی نقصانات ایک سال کے منافع کو ختم کرنے کے برابر تھے۔ عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت نے 27 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔ نجی ریٹیلرز پہلے ہی قیمتیں بڑھا چکے تھے۔

نیارا انرجی نے مارچ میں پیٹرول 5 روپے اور ڈیزل 3 روپے فی لیٹر مہنگا کیا، جبکہ شیل نے یکم اپریل سے پیٹرول 7.41 روپے اور ڈیزل 25 روپے فی لیٹر بڑھایا۔ بنگلورو میں شیل کا پیٹرول 119.85 روپے اور ڈیزل 123.52 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی مارچ میں 60 روپے فی سلنڈر اضافہ کیا گیا تھا، تاہم یہ اب بھی اصل لاگت سے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اضافہ "کیلکیولیٹڈ" ہے تاکہ آئل کمپنیوں کا نقصان کچھ کم ہو سکے مگر مہنگائی کا بڑا جھٹکا بھی نہ آئے۔ اس کے باوجود اس سے افراطِ زر (انفلیشن) پر کچھ اثر پڑے گا۔

اپریل 2026 میں بھارت میں ریٹیل افراطِ زر 3.48 فیصد رہی، جبکہ ہول سیل افراطِ زر 8.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو 42 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جس کی وجہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ اگرچہ سی پی آئی میں پیٹرول اور ڈیزل کی الگ کیٹیگری نہیں ہے، لیکن یہ "ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن" اور "فیول اینڈ پاور" کے ذریعے شامل ہوتے ہیں، اور ان کے اثرات معیشت کے کئی شعبوں پر پڑتے ہیں۔

سرکاری آئل کمپنیاں 2022 میں روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کا نظام ترک کر چکی تھیں تاکہ عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے صارفین کو بچایا جا سکے۔ لیکن اب مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں دوبارہ 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu