نئی دہلیہندوستانی بحریہ کی مائن وارفیئر (سمندری بارودی سرنگوں کے خلاف کارروائی) صلاحیتوں کو جدید بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ہندوستان کی معروف انجینئرنگ کمپنی لارسن اینڈ ٹوبرو نے فرانس کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ایکسیل کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدہ کیا ہے۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ہندوستانی بحریہ کے مائن کاؤنٹر میژر ویسل پروجیکٹ کے لیے جدید ترین ''اَن مینڈ مائن کاؤنٹر میژر سوٹ'' فراہم کرنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کیا ہے اور کیوں خاص ہے؟ یہ نظام سمندر کے اندر بچھائی گئی خطرناک بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور انہیں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر بغیر انسانی عملے کے کام کرتی ہے۔ درستگی: جدید سینسرز کے ذریعے دشمن کی سمندری سرنگوں کی نشاندہی کی جا سکے گی۔ تحفظ: بحریہ کے اہلکاروں کو براہِ راست خطرناک علاقے میں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ کم ہوگا۔ اسٹریٹجک برتری: بحرِ ہند کے خطے میں بڑھتے چیلنجز کے درمیان ہندوستان کی سمندری سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔ ایران، امریکہ اور جدید بحری جنگوں کے تناظر میں سمندری راستوں کو بند کرنے کے لیے بارودی سرنگوں کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ ٹیکنالوجی ہندوستان کے لیے کسی ''گیم چینجر'' سے کم نہیں مانی جا رہی۔ ''میک اِن انڈیا'' کو ملے گا فروغ یہ شراکت داری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ ''میک اِن انڈیا'' اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی سمت میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کے امتزاج سے مستقبل میں ہندوستان دفاعی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ ایم سی ایم وی پروجیکٹ: موجودہ صورتحال اور چیلنجز ہندوستانی بحریہ کے لیے مجموعی طور پر 12 مائن کاؤنٹر میژر ویسل تیار کیے جانے ہیں۔ 2019 میں آخری مائن سویپر جہاز کے ریٹائر ہونے کے بعد سے بحریہ میں اس کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ فی الحال اس پروجیکٹ کی ابتدائی کارروائیاں جاری ہیں اور سرکاری ٹائم لائن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاہدہ ملنے کے بعد پہلے جہاز کو تیار ہونے میں تقریباً 4 سے 6 سال لگ سکتے ہیں۔ دشمن کی جانب سے سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کے خطرات کو دیکھتے ہوئے لارسن اینڈ ٹوبرو اور ایکسیل کے درمیان یہ معاہدہ ہندوستانی بحریہ کی اسٹریٹجک طاقت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ بحرِ ہند میں اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کا یہ ''اَن مینڈ'' قدم مستقبل کی دفاعی تیاریوں کے لحاظ سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

