آستانہ [قازقستانقازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے ایک نیا حکم نامہ منظور کیا ہے جس کا مقصد ملک کے ثانوی تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کو شامل کرنا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی شعبے کو جدید بنانا اور انسانی وسائل کی ترقی کو مضبوط کرنا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جیسا کہ قازانفارم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
قازانفارم کے مطابق اس حکم نامے میں حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 تک ایک جامع ایکشن پلان تیار کرے، جس کے تحت 2026 سے 2029 کے دوران ملک بھر کے اسکولوں میں اے آئی متعارف کرایا جائے گا۔ اس منصوبے میں ذاتی نوعیت کی تعلیم کے نظام کی ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع، اساتذہ کی تربیت کے پروگراموں کا آغاز اور طلبہ کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہوگا۔
حکم نامے میں اے آئی ماہر کائی فو لی (Kai-Fu Lee) کی شمولیت کا بھی ذکر ہے، جو قازقستان کی مصنوعی ذہانت کونسل کے رکن ہیں۔ ان کی سفارشات ان اصلاحات کے نفاذ میں رہنمائی کریں گی اور ملک کی طویل مدتی اے آئی تعلیمی حکمت عملی کی تشکیل میں مدد دیں گی۔
مزید یہ کہ حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ یکم جون 2026 تک منتخب اسکولوں میں پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کی تجاویز پیش کرے، جسے کامیابی کی صورت میں بعد میں ملک بھر میں توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد شہری اور دیہی اسکولوں کے درمیان تعلیمی معیار کے فرق کو کم کرنا ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیمی سہولیات تک رسائی بڑھائی جائے گی۔
حکم نامے کے مطابق پائلٹ مرحلے میں شامل اسکولوں کو یکم اگست 2026 تک ضروری ٹیکنالوجی، بشمول تیز رفتار انٹرنیٹ، فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ اے آئی کے استعمال کے لیے سرکاری معیارات یکم ستمبر 2026 تک مکمل کیے جائیں گے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
ستمبر 2026 تک ایک علیحدہ منصوبہ تیار کیا جائے گا جس کے تحت اساتذہ کو مسلسل اے آئی سے متعلق تربیت دی جائے گی، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی صرف معاون تعلیمی آلہ ہوگا اور اساتذہ کی جگہ نہیں لے گا۔ یہ حکم نامہ جلد قومی سطح پر شائع کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق قازقستان نے اے آئی پر مبنی ایک مفت پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے جو طلبہ کو بین الاقوامی ایس اے ٹی امتحان کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔

