Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
آبنائے ہرمز کی بندش کا سبب امریکہ اور اسرائیل ہیں

آبنائے ہرمز کی بندش کا سبب امریکہ اور اسرائیل ہیں

Awaz The Voice 1 week ago

نئی دہلی : روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کے روز خلیجِ فارس کے خطے میں ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کی افواج کے درمیان جاری بحری بحران اور اسٹریٹجک آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے خدشات پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی "بلا اشتعال جارحیت" (28 فروری کو) اس صورتحال کی بنیادی وجہ ہے، جبکہ ایران اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔

بھارت میں برکس (BRICS) وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے پہلے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور مکمل طور پر آزاد آمدورفت موجود تھی، اور موجودہ عدم استحکام کی ذمہ داری ایران پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ انہوں نے کہا، "ہمیں ہر تنازع کی اصل وجہ سمجھنی چاہیے، اور یہاں اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت ہے۔

اب سب ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے۔ میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 28 فروری سے پہلے اس آبنائے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، مکمل طور پر محفوظ نیویگیشن تھی۔" لاوروف نے مزید کہا، "ایران وہ ملک نہیں جس نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہو، اور نہ ہی وہ اس بحران کا ذمہ دار ہے جو خلیجی ممالک اور پڑوسی ریاستوں کے درمیان پیدا ہوا۔"

روسی وزیر خارجہ نے خلیجِ فارس میں علاقائی سلامتی کے لیے ماسکو کی دیرینہ تجویز کا بھی ذکر کیا، جس میں ایران، عرب ریاستیں، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان دشمنی کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں رہی اور یہ صرف عوام کو نقصان پہنچاتی ہے۔

لاوروف نے چین کی جانب سے پیش کی گئی اسی نوعیت کی تجاویز کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایران نے ان کوششوں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری ترجیح جنگ کا خاتمہ اور جنگ بندی کو پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔ برکس کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ گروپ براہ راست ثالثی نہیں کرے گا، لیکن رکن ممالک علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز میں آزاد بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اس تنازع میں ممکنہ ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس وسیع سفارتی تجربہ اور بین الاقوامی اثر و رسوخ موجود ہے۔ لاوروف نے پاکستان کے اس کردار کا بھی ذکر کیا جس کے تحت وہ ایران اور امریکہ کے درمیان فوری مسائل پر بات چیت میں سہولت فراہم کر رہا ہے، جبکہ بھارت کو طویل مدتی سفارتی عمل میں اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "اگر وہ ایران اور اس کے عرب دوستوں کے درمیان طویل مدتی ثالث تلاش کریں تو بھارت یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔" لاوروف کے یہ بیانات برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد سامنے آئے، جب وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu