نئی دہلی: ویراٹ کوہلی نے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی کرکٹ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور اگلے سال ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ پر مکمل توجہ مرکوز کر رہے ہیں، لیکن اگر کسی مخصوص ماحول میں ان کی صلاحیتوں پر مسلسل سوال اٹھائے گئے تو انہیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی کہ وہ جگہ ان کے لیے نہیں بنی۔
اس 37 سالہ اسٹار بلے باز نے اپنی انڈین پریمیئر لیگ فرنچائز رائل چیلنجرز بنگلور کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی اہمیت کے بارے میں مسلسل بدلتے ہوئے جائزوں سے سخت ناپسندیدگی ہے۔ کوہلی نے کہا کہ وہ ہمیشہ تیار رہتے ہیں کیونکہ یہی ان کی روزمرہ زندگی ہے۔ وہ ورزش کرتے ہیں اور گھر میں اچھا کھانا کھاتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ طرزِ زندگی صرف کرکٹ کھیلنے تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2027 کے ورلڈ کپ اور مستقبل سے متعلق سوالات بار بار پوچھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کھیل رہے ہیں تو ان کا مقصد صرف کرکٹ کھیلنا اور بھارت کے لیے ورلڈ کپ کھیلنا ہوتا ہے، جو ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔
کوہلی نے مزید کہا کہ ان کا نقطۂ نظر واضح ہے: اگر ٹیم اور ماحول سمجھتے ہیں کہ وہ ٹیم میں کردار ادا کر سکتے ہیں تو وہ کھیلتے رہیں گے، لیکن اگر انہیں مسلسل اپنی قابلیت اور اہمیت ثابت کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ ایسے ماحول میں نہیں رہ سکتے۔ ویرات کوہلی نے حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ون ڈے کرکٹ پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
اسی دوران بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے بھی ان کے مستقبل پر واضح رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ کوہلی نے کہا کہ جب تک ٹیم کو ان کی ضرورت ہوگی وہ مکمل تیاری اور محنت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فیلڈنگ اور کھیل کے ہر پہلو کے لیے پوری طرح تیار رہتے ہیں اور ہمیشہ سخت محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ سیزن میں تقریباً دو دہائی بعد دوبارہ ایک ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سنچری بھی اسکور کی اور تیز ترین انداز میں 16 ہزار رنز مکمل کرنے کا سنگ میل بھی حاصل کیا۔

