Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
سپریم کورٹ پہنچا بھوجشالہ مسجد-مندر تنازعہ

سپریم کورٹ پہنچا بھوجشالہ مسجد-مندر تنازعہ

Awaz The Voice 1 week ago

نئی دہلی: بھوج شالا معاملے میں ہندو فریق کے ایک درخواست گزار نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں کیوی ایٹ دائر کی ہے، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کسی بھی ممکنہ اپیل پر بغیر ان کا موقف سنے کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔

جتیندر سنگھ "وشین" کی جانب سے وکیل برون کمار سنہا کے ذریعے دائر کی گئی اس کیوی ایٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فریق کو نوٹس دیے بغیر اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہ سنایا جائے۔ واضح رہے کہ کیوی ایٹ ایک ایسی پیشگی قانونی درخواست ہوتی ہے جس کے ذریعے عدالت کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس معاملے میں کوئی درخواست یا اپیل دائر ہو تو پہلے متعلقہ فریق کا موقف سنا جائے۔

وشین اس مقدمے میں چھٹے درخواست گزار تھے، جس پر جمعہ کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے فیصلہ سنایا تھا۔ ہائی کورٹ نے دھار کے بھوج شالا اور کمال مولا مسجد کمپلیکس کے تاریخی تنازع سے متعلق قرار دیا کہ یہ مقام ہندو عقائد کے مطابق "وادگئی" (سرسوتی) یعنی علم کی دیوی کے مندر کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

عدالت نے متنازع مقام پر صرف ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دینے کی درخواست منظور کی اور اس کے ساتھ ہی بھارتی آثار قدیمہ کے ادارے کے 7 اپریل 2003 کے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا جس کے تحت مسلمانوں کو ہر جمعہ کو اس مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu