منصور الدین فریدی
مغل تاریخ میں ایک نہایت منفرد اور حیران کن واقعہ وہ تھا جب شاہی خواتین نے اجتماعی طور پر حج کا سفر اختیار کیا۔ یہ صرف ایک مذہبی اقدام نہیں تھا بلکہ اس نے مغلیہ دربار کی روایتی سوچ کو بھی چیلنج کیا جہاں تاریخ نویسی زیادہ تر بادشاہ اور اس کی فتوحات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس پس منظر میں گلبدن بیگم کی قیادت میں ہونے والا یہ سفر ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔صدیوں پہلے جب نہ ہوائی جہاز تھے نہ جدید سہولتیں اور نہ ہی خواتین کے لیے تنہا سفر عام بات تھی۔ تب ایک مغل شہزادی نے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی۔ آگرہ سے مکہ تک ہزاروں میل کا سفر۔ وہ بھی خواتین کے ایک قافلے کی قیادت کرتے ہوئے۔ یہ صرف ایک حج کا سفر نہیں تھا بلکہ ہمت استقلال اور آزادی کی ایک ایسی داستان تھی جو آج بھی حیران کر دیتی ہے۔
مغل تاریخ کی یہ درخشاں شخصیت گلبدن بانو بیگم تھیں۔ وہ بابر کی بیٹی اور ہمایوں کی بہن جبکہ اکبر کی پھوپھی تھیں۔ سن 1576 میں جب ان کی عمر تقریباً باون برس تھی تو انہوں نے حج کا ارادہ کیا۔یہ کوئی عام فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے اکیلے نہیں بلکہ شاہی خواتین کے ایک قافلے کی قیادت کی جس میں گیارہ خواتین شامل تھیں۔ آگرہ سے مکہ تک تقریباً تین ہزار میل کا یہ سفر اس دور میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ تھا۔یہ مغل دور کا واحد واقعہ تھا جب خواتین نے اس پیمانے پر اتنا طویل اور سمندری سفر کیا۔
گلبدن بیگم کی زندگی کو مصنفہ روبی لال نے اپنی کتاب "ویگابونڈ پرنسز دی گریٹ ایڈونچرز آف گلبدن" میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
یاد رہے کہ گلبدن بیگم 1523 میں کابل میں پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی مغلیہ سلطنت کے عروج و زوال کے بیچ گزری۔ بابر کے بعد ہمایوں اور پھر اکبر کے دور میں انہوں نے سلطنت کے بدلتے حالات کو قریب سے دیکھا۔
شاہی خواتین کا غیر معمولی اقدام
اکبرنامہ کے مطابق مغل سلطنت میں ہر اہم واقعے کا مرکز شہنشاہ اکبر کو قرار دیا جاتا تھا۔ مگر شاہی خواتین کا یہ اجتماعی حج اس روایت سے ہٹ کر ایک ایسا واقعہ تھا جس نے درباری تاریخ کے مردانہ بیانیے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اکبر اور اس کے مؤرخ ابو الفضل نے حرم کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کیا جو دنیا سے کٹی ہوئی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حرم کی خواتین نے بارہا یہ ثابت کیا کہ وہ صرف پردے کی قیدی نہیں بلکہ اپنی مرضی اور ارادے کی مالک بھی تھیں۔
اس حج کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ یہ تقریباً مکمل طور پر خواتین کا قافلہ تھا۔ کوئی شاہی مرد اس کے ساتھ مستقل طور پر موجود نہیں تھا۔یہ فیصلہ اس زمانے کے لحاظ سے نہایت جرات مندانہ تھا۔ اس سے نہ صرف خواتین کے خود اعتمادی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ اکبر کو اپنی خواتین پر مکمل اعتماد تھا۔
حج پر روانگی کا منظر
مصنفہ روبی لال نے اپنی کتاب "گلبدن بیگم حرم کے پیچیدہ اور پُراسرار حصوں سے باہر آئیں تو ان کے کندھوں اور سر پر کشیدہ کاری والا دوپٹہ تھا۔ چند ماہ پہلے ہی انہوں نے اپنے بھتیجے شہنشاہ اکبر کے ساتھ مغربی عرب یعنی حجاز کے سفر کا ارادہ زیرِ بحث لایا تھا۔ اب اکتوبر 1576 کی ایک خوشگوار خزاں کی صبح تھی جب اکبر خود اپنی پھوپھی اور دیگر شاہی خواتین کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس موقع پر اس کے بیٹے شہزادہ سلیم اور مراد بھی موجود تھے جن کی عمریں بالترتیب سات اور چھ برس تھیں۔اکبرنامہ میں گلبدن بیگم کی فتح پور سیکری سے روانگی کے لیے دو تاریخیں بیان کی گئی ہیں۔ آٹھ اکتوبر 1575 یا نو اکتوبر 1575۔
کون کون تھا قافلے میں
۔بی بی صفیہ، شاہم آغا اور سرو سہی، یہ سب ہمایوں کی خدمت گزار خواتین میں شامل تھیں۔ بی بی سرو قد جنہیں سرو سہی بھی کہا جاتا تھا بعد میں منعم خان خاناں سے شادی کے بندھن میں بندھیں۔ اس سفر کے وقت وہ بیوہ تھیں۔ اینیٹ بیوریج کے مطابق وہ نہ صرف ایک بہترین گلوکارہ تھیں بلکہ ایک بااعتماد اور سمجھدار خاتون بھی تھیں۔ روایت ہے کہ 1549 میں لغمان کے سفر کے دوران بی بی صفیہ اور بی بی سرو سہی نے چاندنی رات میں گیت گا کر قافلے کو محظوظ کیا تھا۔۔اس قافلے کی آخری اہم رکن سلیمہ خانم تھیں جو خضر خواجہ خان کی بیٹی اور گلبدن بیگم کے شوہر سے نسبت رکھتی تھیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ گلبدن بیگم کی حقیقی بیٹی تھیں یا نہیں۔ دراصل سمندری سفر کی قیادت کے لیے سلطان خواجہ کو میرِ حج مقرر کیا گیا جو ایک سنجیدہ اور فکری طبیعت کے مالک تھے۔ اسلامی روایت کے مطابق کسی عورت کے لیے مرد سرپرست کے بغیر حج پر جانا ممکن نہ تھا اس لیے اس قافلے میں دو مرد بھی شامل تھے۔ ایک عبد الرحمن بیگ جو بابر کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور دوسرے باقی خان جو اکبر کے رضاعی بھائی تھے۔
اکبر کا اہتمام اور فراغ دلی
اس تاریخی سفر کے لیے شہنشاہ اکبر نے قافلے کے ساتھ سونے سے مزین صندوقوں میں بے شمار دولت موجود تھی۔ بارہ ہزار خلعتیں اور چھ لاکھ روپے نقد حرمین شریفین میں تقسیم کے لیے رکھے گئے تھے۔ اس کے علاوہ شاہی خواتین کے لیے الگ سے انتظام اور خیرات کے لیے سونے چاندی کے سکے بھی ساتھ تھے۔ سپاہی ان سب کی حفاظت کر رہے تھے۔ بابر کے دور کے توپچی رومی خان بھی اس قافلے کے ساتھ تھے جو شاید مترجم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ باورچی خادم خیمہ زن پانی اٹھانے والے اور سامان ڈھونے والے بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ کچھ غریب حاجی بھی اس قافلے کے ساتھ تھے جنہیں سرکاری پالیسی کے تحت مفت سفر کی سہولت دی گئی تھی۔
مصنفہ روبی لال نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ۔۔ اکبر نے اس سفر کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے۔ دو عظیم بحری جہاز سلیمی اور الٰہی تیار کروائے گئے۔ اس وقت مکہ جانے والا سمندری راستہ پرتگالیوں کے قبضے میں تھا جو مسلمانوں کے جہازوں پر حملوں کے لیے بدنام تھے۔ زمینی راستہ ایران سے گزرتا تھا جو اتنا ہی خطرناک تھا۔ اس لیے اجازت نامہ حاصل کرنا ایک طویل اور مشکل مرحلہ تھا جس میں ایک سال لگ گیا۔

