عمیر منظر
شعبہ اردو
مانو لکھنؤ کیمپس
اردو کے ابتدائی سفرناموں میں اختر النساء بیگم، نواب سربلند جنگ کا سفرنامہ بھی شامل ہے۔انھوں نے اپنے قلم سے ایک دنیا کی سیر کرائی ہے۔جو دلچسپ اور معلوماتی ہے۔کم و بیش پانچ ماہ کے اس سفر میں ٹرین،کشتی بحری جہاز،اونٹ کی سواری اوربعض دیگر ذرائع سفر کا ذکرکیا ہے۔بیگم صاحبہ کا سفر خوشگوار احساسات کا حامل ہے۔عورت کی نظر سے جن ممالک کی سیر کی گئی ان میں مکہ معظمہ ،مدینہ منورہ ،مصر، شام ،اٹلی ،فرانس اور انگلستان شامل ہے ۔یہ سفرنامہ 12نومبر 1909تا3/اپریل 1910 کو محیط ہے۔
بیگم نواب سر بلند جنگ کو مدینہ منورہ سے عشق تھا پہلی بار وہ 1909 میں حج اور زیارت کو گئیں۔ دوسری بار 1934 میں اور 1937 میں ان کا آخری سفر تھا۔ارض مقدس سے غیر معمولی تعلق کی بنا پر ہی وہ اپنے کو مدینہ کی خاک نشیں لکھتی تھیں۔مدینہ کی یاد ان کے لیے سکون قلب تھی۔یہ دلی لگاؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کے شوہر حمید اللہ سربلند جنگ (منصف عدالت عظمی،حیدرآباد دکن) نے جب ان سے یہ کہا کہ کیا تم اس سال حج کو چلو گی تو وہ فورا تیار ہو گئیں حالانکہ بعض اعزا نہیں چاہتے تھے کہ یہ سفر اس سال کیا جائے۔اسی ارض مقدس کے صدقے انہوں نے مصر و شام اٹلی فرانس اور انگلستان کی سیاحت کی۔اسی لیے ان کے سفرنامہ کو مشرق و مغرب کا سفرنامہ کہا جاتا ہے۔
سفر کی تیاریاں کئی ماہ پہلے شروع ہوگئی تھیں۔البتہ 12نومبر 1909بمطابق 27شوال 1327ہجری کو حیدرآباد سے بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے۔ گلبرگہ ہوتے ہوئے 29شوال بمطابق 14نومبر 1909کو ممبئی پہنچیں۔یہاں سے کشتی کے ذریعہ "سالسٹ"نامی بحری جہاز پر سوا ر ہوئے جو پی۔اینڈ۔او کمپنی کا تھا۔یہ جہاز غیر معمولی سہولتوں سے آراستہ تھا۔کھانے پینے کا نہایت عمدہ انتظام۔ہر چیز میں سلیقہ اور قرینہ۔ارام اسائش کے مختلف رنگ ۔
اس سفرنامہ میں ان کے معمولات بھی حیرت انگیز تھے۔نماز اور وظائف کا اہتمام قابل رشک حد تک موجودہے۔بیگم صباحبہ نے پردے سے بھی کہیں سمجھوتا نہیں کیا۔ان کی ملنساری،غریبوں اور ناداروں کا خیال اورانسان دوستی وغیرہ کے مناظر بھی خوب ہیں۔جہاز کی پہلی صبح کے بارے میں لکھا ہے کہ صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔پھر سی باتھ لیا۔سی باتھ لینے سے جسم نہایت صاف ہوگیا۔نماز فجر اورسی بات کا ذکر وہ بہت اہتمام سے کرتے ہیں۔سات بجے مٹن چاپ کا ناشتہ کیا۔جب کہ گیارہ بجے ویٹر بیفٹی( گوشت کی یخنی)لے کر آیا۔
جہازمیں موجود دیگر خواتین سے دوستی اور تعلق کا احوال بھی لکھا ہے۔ان سے گفتگو اور بحث ومباحثہ کے بعض احوال بھی۔ ایک بار کسی خاتون نے ہندستانی رسم ورواج پر نکتہ چینی کی تو انھوں نے اس کا زبردست انداز میں دفاع کیا۔عربوں سے نادیدہ عقیدت اور ان کی زبان سے بے پناہ محبت ان کی تحریروں سے جھلکتی ہے۔سفر میں متعدد مقامات پر ان کا ذکر کرتے ہوئے سفرنامہ نگار کے یہاں ایک جوش کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے ذکر میں ان کی زبان کے بارے میں ضرو ر لکھتی ہیں۔ایک جگہ لکھا ہے کہ"تمام باشندے انگریزی اورعربی بولتے ہیں۔انگریزی تتلا تتلا کر بولتے ہیں"۔پورٹ سعید کی ایک دوکان میں دوکان دار نے انھیں دیکھ کر مرحبا کہا تو خوش ہوئیں۔ سفرنامہ میں ایک جگہ لکھتی ہیں۔
عدن تو بالکل خشک مقام تھامگر سوئزسرسبز نظرآتا ہے۔یہاں بھی سب لوگ عرب معلوم ہوتے ہیں۔لباس بھی عربی ہے، سب مسلمان ہیں۔عربوں نے اپنی اپنی کشتیاں لاکر جہازوں سے باندھ دی ہیں۔بڑی بڑی ٹوکریاں لے کر جہاز پر چڑھ آئے اور اپنا اپناسامان کھولا۔طرح طرح کی اشیاء لائے ہیں۔ صاحب ومیم صاحبان خریدنے لگے۔میں نے بھی تین تین عدد ہار،ایک جوڑچوڑیوں کا،ایک کالا رومال جس پر بہت اچھی کامدانی بنی تھی،خریدااور تھوڑی عربی بھی ان سے بولی۔وہ بہت خوش ہوئے۔(دنیا عورت کی نظر میں،مشرق و مغرب کا سفرنامہ ص 84)
24نومبر کوحافا (حیفا)پہنچ گئے۔یہاں سے بذریعہ ٹرین مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔واضح رہے کہ عثمانی سلطنت کے ز مانے میں 1908تا 1916کے دوران دمشق سے مدینہ تک ریل چلتی تھی۔پہلی جنگ عظیم کے دوران حجاز بھی جنگی تباہ کاریوں کا شکار ہو گیا۔حجاز ریلوئے کی ایک شاخ حیفا تک جاتی تھی۔یہیں پر اتر کر ان لوگوں نے نظرت اور طبریہ کی سیر بھی کی یہ دونوں مقامات اسرائیل کے شمالی حصے میں ہیں۔نظرت عیسائیوں کے مقدس مقام کی وجہ سے جانا جاتاہے۔اسے حضرت عیسی کاشہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا بچپن یہیں گذرا تھا۔ حیفا میں عربی زبان رائج ہے۔عیسائی بھی عربی بولتے ہیں۔نظرت میں عیسائی بچے بھی عربی بولتے ہوئے ملے۔جس سے سفرنامہ نگارنے اپنے حال پر افسوس ظاہر کیا کیونکہ وہ عربی بولنے پر قادر نہیں تھیں۔یہاں پر حضرت عیسی کی جائے پیدائش اور بی بی مریم کے عبادت کے مقام کی زیارت کے بعد طبریہ کے لیے روانہ ہوگئے۔طبریہ میں حضرت سلیمان کا حمام دیکھا۔اس کے بارے میں مشہور ہے کہ گٹھیااور جوڑوں کے درد کے مریض یہاں ہفتہ دو ہفتہ قیام کرکے نہاتے ہیں اور بحکم خدا شفا ہوتی ہے۔یہاں سے حائفہ جانے والی ریل پر سوار ہوکر درہ(درعا)پہنچے۔وہاں سے اگلی ٹرین سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے اور 30نومبر کو مدینہ پہنچے۔یہاں پہنچ کر عقیدت ومحبت کے حصار میں وہ آجاتی ہیں۔ایک جگہ لکھتی ہیں:
تمام رات میری عجیب حالت رہی نہ نیند ہی تھی اور نہ بیداری ہی تھی۔شب کے بارہ بجے نواب صاحب نے تہجد کے لیے وضوکیا۔پھر حرم شریف میں حاضر ہوگئے۔مگر میں اسی تصور آقا میں پڑی رہی،یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔،(ص112)
یہاں سے دمشق کی سیر کے لیے نکلے،بیروت،پورٹ سعید،کوہ طورسے ہوتے 17دسمبر کو جدہ پہنچے۔یہاں سے یہ قافلہ اونٹوں پرمکہ کے لیے روانہ ہوا اور19دسمبر کو حدود حرم میں داخل ہوگیا۔یہاں پہنچ کر ان کی بے تابی اور بیقراری دراصل ایک مسلمان کے دل کی آواز ہے۔بالکل وہی کیفیت کہ "کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیا۔ارکان حج کی ادائیگی کے مناظر اور خشوع و خضوع کی جو کیفیت ہے وہی اس کا حاصل ہے۔کعبے کو دیکھنا۔حطیم میں آنسوؤں کا رواں رہنا،ہر شے میں شان باری نظر آنا، خوش ہونااور خوش ہوکر یاد خدا میں مصروف ہوجانا سفرنامے کا اہم حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔سفرنامہ نگارنے ارض مقدس کے حوالے سے اپنے احساسات اور تجربات میں کہیں بھی غیر ضروری باتوں کو آنے نہیں دیا ہے۔ارکان ومناسک کی ادائیگی میں نہایت محتاط رویہ اختیار کیا۔کسی بھی رکن کو نظر انداز نہیں ہونے دیا۔اور کہیں کوئی منفی بات نہیں لکھی ہے ۔منی سے عرفات کے لیے روانگی کے مرحلے کی یہ دلچسپ گفتگو ملاحظہ کریں۔
نواب صاحب نے مجھ سے کہا کہ "تم بھی محمود احمد کولے کر مع سازوسامان شب کے دو بجے ہی جبل عرفات کے لیے روانہ ہوجاؤ۔صبح کی نماز کا انتظار نہ کرو۔لوگ کثرت سے ہیں دیر نہ ہوجائے۔ایسے وقت پر پہنچ جانا کہ خطبہ وہاں سن لیا جائے۔"میں نے عرض کیا کہ بہت اچھا۔مگرمیں ساڑھے تین بجے روانہ ہونا چاہتی ہوں کیونکہ نماز شافعی کا چاربجے ہوجاتاہے اور یقین ہے ہمارا اونٹ آدھے گھنٹے تک توضرورسرحد منی میں رہے گا۔پس میں اونٹ پر ہی نماز فجر ادا کرلوں گی تاکہ میری پانچوں نمازیں سرحد منی میں پوری ہوجائیں۔لہذا ہم دونوں اس پر راضی ہوگئے۔(ص150)

