ظفر سریش والا
ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ گائے کا گوشت کھانا مسلمانوں کے لیے ایک نیکی کا عمل ہے۔ اس بات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اسلام کبھی یہ نہیں کہتا کہ ایک مومن کے لیے گائے کا گوشت کھانا ضروری ہے۔ گائے کا گوشت کھانا جائز ہے مگر یہ کوئی نیکی کا عمل نہیں ہے۔ آپ بکرے کا گوشت۔ مچھلی یا اونٹ کا گوشت بھی کھا سکتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کی لازمی غذا نہیں ہیں۔ آئیے بابر کے زمانے کی طرف چلتے ہیں۔
بابرنامہ میں جو پہلے مغل بادشاہ کی جانب سے اپنے آخری دنوں میں اپنے بیٹے کو دی گئی نصیحتوں پر مشتمل کتاب ہے لکھا ہے۔ "بیٹے اگر تم اس ملک پر حکومت کرنا چاہتے ہو تو یہاں کے لوگوں کے عقائد کا احترام کرو۔ وہ گائے کی پوجا کرتے ہیں اس لیے گائے کا گوشت کھانے سے پرہیز کرو۔ وہ گائے کو مقدس مانتے ہیں اور اس کا بہت احترام کرتے ہیں۔ گائے کے گوشت کو ہاتھ تک نہ لگانا۔"
بہت سے متبادل موجود ہیں۔ بیل۔ بھینس۔ اونٹ اور بکریاں۔ پورے مغل دور میں یہاں تک کہ اورنگزیب کے زمانے میں بھی گائے کے ذبیحے پر پابندی تھی۔ برطانوی راج کے دوران گائے کے گوشت کی درآمد میں اضافہ ہوا کیونکہ یورپی لوگ گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندستان میں گائے کا گوشت انہی لوگوں نے متعارف کرایا۔
میں یہ فرق ہندوؤں کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں۔ 1955 میں ایشیا کے سب سے بڑے اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا۔ "مختلف برادریوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہم مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ قربانی میں گائے کے گوشت کے استعمال سے پرہیز کریں کیونکہ اس کے متبادل موجود ہیں۔"
امن برقرار رکھنے کے لیے اگر میں آپ کے عقیدے کا احترام کرنا چاہوں چاہے اس کے لیے مجھے اپنی بعض رسومات قربان ہی کیوں نہ کرنی پڑیں تو خدا کی نظر میں یہ سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے۔ یہ سب کہنے کے بعد میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ گائے کے گوشت کے گرد جو پورا شور پیدا کیا جا رہا ہے وہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔
گائے کے گوشت اور بھینس کے گوشت کے درمیان واضح فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ تقریباً 24 ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی ہے۔ اس کے باوجود ہندستان دنیا میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ یہ بھینس کا گوشت ہے نہ کہ گائے کا۔ کئی برسوں سے ہندستان دنیا میں 20 فیصد گوشت کی کھپت کا حصہ رہا ہے۔
لیکن گائے سے متعلق پورے معاشی نظام کے مرکز میں مسلمان نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں گائیں بنیادی طور پر کسانوں کی ملکیت ہوتی ہیں۔ وہ انہیں تاجروں کو فروخت کرتے ہیں اور تاجر انہیں مذبح خانوں تک لے جاتے ہیں۔ ملک کے 99 فیصد سے زیادہ کسان ہندو ہیں۔ جب گائیں ذبح کی جاتی ہیں تو ان کی ہڈیاں جیلاٹن بنانے والی صنعتوں کو جاتی ہیں۔ خون دواسازی اور کاسمیٹک صنعتوں کو دیا جاتا ہے جبکہ کھال چمڑے کی صنعت کے پاس جاتی ہے۔

