واشنگٹن ڈی سی: امریکی وائٹ ہاؤس نے ایک اعلیٰ سطحی بیان اور گرافک جاری کیا ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جنہوں نے امریکہ کے "دشمنوں کو بے اثر" کیا ہے۔ اس سرکاری بیان میں ایک تصویر شامل تھی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف بین الاقوامی شخصیات کی تصاویر کے اوپر نمایاں طور پر دکھایا گیا تھا۔
ان شخصیات میں وینیزویلا کے سابق صدر نیکولاس مادورو، ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، داعش کے ایک اہم رہنما ابو بلال المینوقی، اور کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو شامل تھے۔ ہر شخصیت کے ساتھ ان کی صورتحال کے مطابق الفاظ درج تھے، جیسے "گرفتار"، "ہلاک"، یا "مقدمہ درج" وغیرہ۔
اس کے ساتھ ایک سخت جملہ بھی شامل تھا: "امریکہ کے دشمنوں کو صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔" اس پیغام کے آخر میں ایک وارننگ بھی دی گئی: انصاف ضرور فراہم کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کیوبا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
امریکی حکومت نے راؤل کاسترو کے خلاف 1996 کے ایک واقعے کے حوالے سے قتل اور سازش کے الزامات میں فوجداری مقدمہ بھی درج کیا ہے، جس میں دو شہری طیاروں کو مار گرایا گیا تھا۔ امریکی اٹارنی جنرل کے قائم مقام ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ یہ کیس تاریخی نوعیت کا ہے اور پہلی بار کیوبا کی اعلیٰ قیادت کو اس سطح پر امریکی عدالت میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اس کارروائی کو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں سخت اور جارحانہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر کیوبا اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔ اسی دوران خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور اطلاعات کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر تہران کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان غیر رسمی مذاکرات میں مدد دی جا سکے۔

