Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کے متحرک تعلقات اور باہمی اعتماد سے ہند-امریکہ تعلقات کے لامحدود امکانات روشن: سفیر گارسیٹی

صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کے متحرک تعلقات اور باہمی اعتماد سے ہند-امریکہ تعلقات کے لامحدود امکانات روشن: سفیر گارسیٹی

Awaz The Voice 4 hrs ago

حیدرآباد: ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے منگل کے روز ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد نے دونوں ممالک کے درمیان ''لامحدود امکانات'' کے دروازے کھول دیے ہیں۔

حیدرآباد میں امریکی یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گور نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کی شراکت داری آنے والی کئی دہائیوں تک عالمی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

انہوں نے کہا، ''ہمارے دونوں رہنماؤں (صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی) کے درمیان متحرک تعلقات اور باہمی اعتماد نے بے شمار امکانات کو جنم دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے چند سال دنیا کی آئندہ کئی دہائیوں کی سمت متعین کریں گے۔''

امریکی سفیر نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دفاع، تجارت، ادویات سازی، خلائی تحقیق، سمندری امور اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ''اگر آپ دنیا کے کسی بھی شعبے پر نظر ڈالیں تو ہندوستان اور امریکہ یا تو پہلے ہی اس میں شراکت دار ہیں یا مستقبل میں بننے والے ہیں۔ چاہے خلا ہو، سمندر، دفاع، فارماسیوٹیکل صنعت یا تجارت، ہر شعبے میں دونوں ممالک شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔''

سرجیو گور نے دفاعی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ زیادہ فوجی مشقیں انجام دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان امریکہ کو سب سے زیادہ برآمدات کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جس سے دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد ہی دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل بنیاد ہے۔ اسی اعتماد کے سبب ہندوستان کو امریکہ کے ''پیکس سیلیکا'' (Pax Silica) اقدام میں شامل ہونے کے لیے ابتدائی دس ممالک میں جگہ دی گئی۔

گور نے کہا، ''جب امریکہ نے پیکس سیلیکا نامی نئے عالمی اقدام کا اعلان کیا تو ہندوستان ان اولین دس ممالک میں شامل تھا جنہیں اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم ہندوستان پر اعتماد کرتے ہیں۔''

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں استعمال ہونے والی تقریباً 40 فیصد جنیرک ادویات ہندوستان سے آتی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود اعتماد کی ایک اہم مثال ہے۔

امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ''آج صبح میری نئی دہلی میں وزیر تجارت پیوش گوئل اور امریکی تجارتی نمائندے کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ہندوستان پہنچنے کے بعد میری اولین ترجیحات میں سے ایک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا اور ہم اس منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔''

سرجیو گور نے اس موقع پر وائٹ ہاؤس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔

ہندوستان کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پہلی بار 15 برس قبل ہندوستان آئے تھے اور تب سے ملک کی ثقافتی تنوع، رنگا رنگی اور توانائی نے انہیں ہمیشہ متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ''میں دنیا کے 95 ممالک کا سفر کر چکا ہوں، لیکن جب بھی مجھ سے پسندیدہ ممالک کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو ہندوستان ہمیشہ میری فہرست میں سرفہرست رہتا تھا۔''

انہوں نے زور دے کر کہا، ''امریکہ یہاں اس لیے ہے کیونکہ وہ ہندوستان پر اعتماد کرتا ہے۔ امریکہ یہاں اس لیے ہے کیونکہ وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔''

دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے گور نے کہا، ''مجھے یقین ہے کہ آج سے 250 سال بعد بھی ہمارے دونوں ممالک اتنے ہی قریبی دوست ہوں گے، بلکہ شاید آج سے بھی زیادہ مضبوط تعلقات کے حامل ہوں گے۔''

یہ تقریب امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کی یاد میں منعقد کی گئی، جس میں ہندوستان اور امریکہ کے سفارتی، ثقافتی اور سماجی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ امریکہ نے 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu