کولکتہترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رہنما ڈیریک اوبرائن نے بدھ کے روز ان خبروں پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا جن میں کہا گیا تھا کہ مغربی بنگال کے اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے مینو سے انڈے ہٹائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا اقدام بچوں کو ضروری غذائیت سے محروم کر دے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اوبرائن نے اس معاملے کو ریاست میں انڈوں سے متعلق حالیہ سیاسی تنازعات سے جوڑتے ہوئے بی جے پی پر سبزی خوری مسلط کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے لکھا کہ نتخابی مہم کے دوران مچھلی کھانے کے تماشے کے بعد گجرات جم خانہ کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ بنگال میں نئی بی جے پی حکومت کام پر لگ گئی ہے۔ مخالفین پر انڈے پھینکو، لیکن بچوں کو مڈ ڈے میل سے انڈے ہٹا کر غذائیت سے محروم کرو۔ سبزی خوری مسلط کی جا رہی ہے۔ بنگال اسے مسترد کرتا ہے۔ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مڈ ڈے میل میں انڈوں کی جگہ پنیر اور سویابین جیسے متبادل شامل کیے جا سکتے ہیں۔یہ تنازع مغربی بنگال حکومت کے اس فیصلے کے بعد پیدا ہوا جس کے تحت اسکون کو کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے تحت آنے والے اسکولوں میں پکا ہوا مڈ ڈے میل فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم، اسکون کولکتہ کے نائب صدر رادھارمن داس نے مجوزہ مینو سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ کچھ لوگ کولکتہ میں مڈ ڈے میل کے لیے ایک مجوزہ مینو شیئر کر رہے ہیں۔ تاہم میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی مینو حتمی نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ فہرست ہماری جانب سے جاری کی گئی ہے۔ جب مینو کو حتمی شکل دی جائے گی تو ہم باضابطہ اعلان کریں گے۔ براہِ کرم اس غلط معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں۔ واضح رہے کہ 2024 میں حکومتِ ہند نے طلبہ کی صحت اور تعلیم کو بہتر بنانے کے مقصد سے پی ایم پوشن اسکیم شروع کی تھی۔ وزارتِ تعلیم کی جانب سے متعارف کرائی گئی "پردھان منتری پوشن شکتی نرمان " اسکیم اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے طویل عرصے سے جاری قومی پروگرام کا نیا روپ ہے، جس کا مقصد طلبہ کو بہتر غذائیت فراہم کرنا اور ان کی تعلیمی ترقی میں مدد دینا ہے۔

