ڈاکٹر فردوس خان
حیدرآباد کی ساجدہ خان ملک کی پہلی آڈیو انجینئر ہیں۔ ان کا نام ''فرسٹ وومن اِن انڈین ہسٹری'' کے زمرے میں ''ٹاپ 200 فیمس ویمن پرسنالٹیز آف انڈیا'' میں درج ہے، جبکہ وہ سنیما اور موسیقی کے شعبے کی ہندوستان کی سرفہرست 14 خواتین میں بھی شمار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا نام انڈین ویمنز ہسٹری میوزیم میں بھی درج ہے۔ اپنی غیر معمولی خدمات کے ذریعے انہوں نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔
ساجدہ خان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ خاندان سے ہے۔ وہ کہتی ہیں، ''میرے والد سلیم احمد خان ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) میں انسپکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ میری والدہ زینب گھریلو خاتون ہیں۔ میرے بھائی ساجد آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور میری بہن شہناز نے ایم بی اے کیا ہے۔ میں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے تین پوسٹ گریجویٹ ڈپلومے بھی حاصل کیے ہیں۔ میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کی ایلومنائی ایسوسی ایشن کی نائب صدر بھی ہوں۔''
آڈیو انجینئر کے کام کی وضاحت کرتے ہوئے ساجدہ خان کہتی ہیں، ''آڈیو انجینئر کو ساؤنڈ انجینئر یا ریکارڈنگ انجینئر بھی کہا جاتا ہے۔ آڈیو انجینئر ریکارڈنگ یا لائیو پرفارمنس کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ ایکولائزیشن، ڈائنامکس پروسیسنگ اور آڈیو ایفیکٹس کے ذریعے مختلف آوازوں کا توازن قائم کرتا اور انہیں ایڈجسٹ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ساؤنڈ کی مکسنگ، ری پروڈکشن اور بہتری کا کام بھی انجام دیتا ہے۔ ساؤنڈ اور موسیقی کے شعبے میں اس کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔''
ساجدہ خان فلمی دنیا کا ایک معروف نام ہیں۔ جس عمر میں اکثر نوجوان دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس وقت انہوں نے خود کو تعلیم، کیریئر اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ کہتی ہیں، ''ایک مرتبہ میں ایک اسٹوڈیو گئی۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے اس شعبے میں کام کرنے کی تحریک ملی۔ پھر میں نے دن رات محنت کی۔ نتیجتاً فلمی دنیا میں میرا سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ میں نے ہندی، تیلگو، تمل، ملیالم اور بھوجپوری سمیت مختلف زبانوں کی 60 سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔ ڈبنگ اور ساؤنڈ ایفیکٹس سے لے کر پیچیدہ فائنل مکسنگ تک، میں نے ساؤنڈ کے ہر پہلو پر کام کیا۔ میں نے ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔ اسی لگن نے مجھے کامیابی دلائی۔ میں تقریباً 18 برس سے تیلگو فلم انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں۔''
ان کے کیریئر کی نمایاں کامیابیوں میں قومی ایوارڈ یافتہ فلم ''اڈوی نا تھلی را'' میں ان کی خدمات شامل ہیں، جو ان کی تکنیکی مہارت اور معیاری سنیما میں ان کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسٹوڈیو میں ان کی موجودگی بدلتے ہوئے وقت کی علامت ہے۔ وہ کہتی ہیں، ''ہر کام کے ساتھ چیلنجز جڑے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی چیز اتنی آسان نہیں ہوتی جتنی دکھائی دیتی ہے۔ ابتدا میں بعض لوگوں نے مجھ پر شک کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مردوں کا پیشہ ہے۔ لیکن میری دیانت داری، سخت محنت اور لگن نے مجھے عزت دلائی۔ جو لوگ پہلے میری مخالفت کرتے تھے، آج وہی میرے کام کے انداز اور صلاحیتوں کے بڑے معترف ہیں۔ یہی میرے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔''
اعزازات
ساجدہ خان کو ملک کی مختلف ریاستوں اور قومی سطح پر 450 سے زائد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان میں 150 سے زیادہ اسنادِ ستائش اور تعریفی اسناد بھی شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ''میرے کام کو قومی سطح پر اس وقت بڑی شناخت ملی جب 20 جنوری 2018 کو بھارت کے اُس وقت کے صدر رام ناتھ کووند نے مجھے باوقار 'فرسٹ لیڈیز ایوارڈ' سے نوازا۔''
یہ اعزاز انہیں ملک کی ان 112 خواتین میں شامل کرتے ہوئے دیا گیا جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں پہلی ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور آڈیو انجینئرنگ جیسے تکنیکی شعبے میں صنفی رکاوٹوں کو توڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں
ساجدہ خان کو چھ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں سے بھی نوازا جا چکا ہے، جو اپنے آپ میں ایک قابلِ ذکر اور قابلِ ستائش اعزاز ہے۔ وہ کہتی ہیں:
''30 مارچ 2019 کو حیدرآباد میں یونائیٹڈ تھیولوجیکل ریسرچ یونیورسٹی (امریکہ) نے مجھے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا۔ اسی روز اسی یونیورسٹی کے ایکسٹرنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ وِنگ کی جانب سے سماجی خدمات کے اعتراف میں ایک اور اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی گئی۔
27 مئی 2023 کو گلوبل ہیومن پیس یونیورسٹی نے نئی دہلی میں فلم اور تفریحی صنعت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں مجھے اعزازی ڈاکٹر آف آرٹس کی ڈگری عطا کی۔
3 نومبر 2024 کو ریسرچ یونیورسٹی، امریکہ نے چنئی میں مجھے ساؤنڈ انجینئرنگ کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔
4 اپریل 2024 کو امریکہ تھیولوجیکل یونیورسٹی، ٹیکساس نے حیدرآباد میں سماجی خدمات کے اعتراف میں مجھے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔
28 جون 2025 کو گلوبل ہیومن پیس یونیورسٹی نے چنئی میں مجھے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔''
دیگر کامیابیاں
بے شمار اعزازات کے ساتھ ساتھ ساجدہ خان کا نام متعدد ریکارڈ بکس میں بھی درج ہے، جن میں تلگو بک آف ریکارڈز، تلنگانہ بک آف ریکارڈز، ہائی رینج بک آف ورلڈ ریکارڈز (امریکہ)، ونڈر بک آف ریکارڈز (انٹرنیشنل، امریکہ)، ونر بک آف ریکارڈز، ورلڈ بک آف ریکارڈز (برطانیہ)، لائف بک آف ریکارڈز، اور دی بک آف تلنگانہ ریکارڈز - تلنگانہ کوٹی پرتی بھانتھولا خزانہ شامل ہیں۔
ان کا نام IBPS، SSC، UPSC، RRB، RBI، SBI سمیت متعدد مسابقتی امتحانات اور تعلیمی پلیٹ فارمز کے جنرل نالج سیکشن میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی شناخت
ساجدہ خان کا سفر اور ان کا انٹرویو بین الاقوامی آڈیو بک "Women in Audio" میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر کی کامیاب خواتین آڈیو انجینئرز کے انٹرویوز یکجا کیے گئے ہیں۔
Women in Audio (Audio Engineering Society) کا پہلا ایڈیشن دسمبر 2019 میں انگلینڈ سے روٹلیج (Routledge) نے شائع کیا۔
سماجی خدمات
ساجدہ خان گزشتہ پندرہ برسوں سے سماجی خدمت سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ تعلیم، ادب، صحت اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں:''میں نے 2019 میں مفت آڈیو بکس پر کام شروع کیا۔ اب تک تقریباً 70 کتابیں مکمل کر چکی ہوں۔ ایک مرتبہ میں ایک کتاب کی تقریبِ اجرا میں گئی۔ وہاں کتابوں کی قیمتیں دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ادب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اسی لیے میں نے مفت کتابوں پر کام شروع کیا۔
ان شاء اللہ، اسی سال میں ایک ایسی ایپ متعارف کراؤں گی جس میں یہ تمام کتابیں دستیاب ہوں گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایپ تعلیم اور ادب کے میدان میں نہایت مفید ثابت ہوگی۔
صحت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں اب تک تقریباً 200 اسکولوں میں بطور مہمان شرکت کر چکی ہوں۔''
ترغیب اور پیغام
ساجدہ خان کی کامیابی کی داستان خواتین انجینئروں اور تکنیکی شعبے میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مضبوط تحریک ہے۔ اپنے شاندار کام کے ذریعے وہ آڈیو انجینئرنگ کے میدان میں مختلف آوازوں کو نمایاں کر رہی ہیں اور اس شعبے کو نئی جہتیں عطا کر رہی ہیں۔ وہ تکنیکی پیشوں میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں:''خواتین کو تعلیم اور مختلف پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں باخبر بنایا جانا چاہیے۔ میں نوجوانوں، خاص طور پر اس شعبے میں قدم رکھنے والی لڑکیوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ کسی بھی پیشے میں کامیابی کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ سخت محنت، لگن اور صبر بھی ضروری ہے۔ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کریں اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے آگے بڑھیں۔
میں نئی نسل کو یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ سوشل میڈیا کا مثبت اور ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔ اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے صحت، تعلیم، کیریئر اور نئی ٹیکنالوجیز سیکھنے پر توجہ دیں۔''
تھرلر اور سسپنس فلم
ساجدہ خان 2018 سے فری لانسنگ بھی کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں:میری خواہش ہے کہ میں اپنا ذاتی اور جدید اسٹوڈیو قائم کروں۔ اس وقت میری پوری توجہ ایک ہندی تھرلر اور سسپنس فلم پر مرکوز ہے، جس پر کام جاری ہے۔ فی الحال میری تمام توجہ اسی پروجیکٹ پر ہے۔ اس فلم کے نام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔''

