Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
آسٹریلیا میں مقیم بھارتی برادری کو وزیرِ اعظم مودی کے دورے سے دوطرفہ تعلقات کے مزید مستحکم ہونے کی امید

آسٹریلیا میں مقیم بھارتی برادری کو وزیرِ اعظم مودی کے دورے سے دوطرفہ تعلقات کے مزید مستحکم ہونے کی امید

میلبورن (آسٹریلیا): وزیرِ اعظم نریندر مودی کے آسٹریلیا میں طے شدہ مصروفیات سے قبل وہاں مقیم بھارتی برادری اور مختلف سماجی رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کا یہ دورہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، تجارتی مواقع کو فروغ دے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو نئی جہت عطا کرے گا۔

میلبورن میں واقع گیلارڈ انڈین ریسٹورنٹ کے مالک شیوراج سنگھ نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کا دورہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے تعلقات کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا،"ہمیں یقین ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کا یہ دورہ تجارت سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا باعث بنے گا۔ ہم اس کے لیے پُرامید ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا میں بھارتی کھانوں اور ثقافت کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک رہتے ہوئے یہ بات واضح طور پر محسوس ہوتی ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کے دورِ حکومت میں عالمی سطح پر ہندوستان کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

اے آئی ایس وی (AISV) کی صدر انو خانیجو میک فرسن نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔

انہوں نے کہا،"یہ وزیرِ اعظم مودی کا آسٹریلیا کا تیسرا دورہ ہے، جو یقیناً دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دوستی کے نئے دروازے کھلیں گے۔"انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران سی ای او فورم اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کا مضبوط پل ثابت ہوسکتی ہے۔

انو میک فرسن کے مطابق ہندوستان اور آسٹریلیا ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی تکمیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا،"ہندوستان کے پاس وسیع پیداواری صلاحیت اور مینوفیکچرنگ کا مضبوط ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ آسٹریلیا ڈیزائن، تحقیق اور دانشورانہ املاک کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔"تعلیم اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ مدھو کھنہ نے بھی وزیرِ اعظم مودی کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوروں سے آسٹریلیا میں بھارتی برادری کا وقار بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا،"2014 میں وزیرِ اعظم مودی کے دورے پر بھی ہمیں بے حد خوشی ہوئی تھی۔ ان کے ہر دورے کے بعد یہاں بھارتی برادری کو زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔"مدھو کھنہ نے بتایا کہ وہ آسٹریلوی شہریوں اور بچوں کو بھارتی روایتی فنون جیسے رنگولی، وارلی آرٹ اور لپن آرٹ کی تربیت دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا،"مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں مقامی کونسلوں کے عوامی آرٹ منصوبوں میں بھارتی فنون کو متعارف کرا رہی ہوں۔ آسٹریلوی فنکار اور بچے بھارتی فنون سیکھنے میں بے حد دلچسپی رکھتے ہیں، جو ہمارے ملک کی ثقافتی ساکھ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔"کوئنزلینڈ سے تعلق رکھنے والے بھارتی نژاد ڈاکٹر نیراج کھنہ نے بھی وزیرِ اعظم کے دورے کو بھارتی برادری کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔انہوں نے کہا،"ہم اپنے محبوب وزیرِ اعظم کا تیسری مرتبہ آسٹریلیا آمد پر دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ بھارتی نژاد ڈاکٹروں اور پوری بھارتی برادری کے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے، اور ان کا ہر دورہ ہمیں مزید حوصلہ اور اعتماد دیتا ہے۔"

انہوں نے 2014 کے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیرِ اعظم مودی نے برسبین میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی، جس سے وہ بے حد متاثر ہوئے تھے۔ڈاکٹر نیراج کھنہ نے بتایا،"میں صرف وزیرِ اعظم کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کے خیالات سننے کے لیے آج برسبین سے یہاں آیا ہوں۔ ان کا وژن ہمیشہ ہمیں متاثر کرتا ہے۔"

وزیرِ اعظم نریندر مودی 6 سے 11 جولائی تک انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے تین ملکی دورے پر ہیں۔

روانگی سے قبل جاری اپنے بیان میں وزیرِ اعظم مودی نے کہا تھا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران وہ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی سے ملاقات کریں گے، جس میں دفاع و سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، افرادی نقل و حرکت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں ہند-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu