نئی دہلی عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ملک بھر میں مسلمان مختلف انداز میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی مناتے ہیں۔ اس موقع پر مسلم علما اور سیاسی رہنماؤں نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جشنِ میلاد کو عبادت، درود و سلام، ذکر و اذکار اور سیرتِ نبوی ﷺ کو یاد کرنے کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کریں جس سے امن و امان متاثر ہو یا دوسروں کو تکلیف پہنچے۔
علما نے کہا ہے کہ میلاد النبی ﷺ کا اصل پیغام محبت، اخوت، امن، برداشت اور حسنِ اخلاق ہے، اس لیے جلوس اور دیگر پروگراموں میں نظم و ضبط کا خاص خیال رکھا جائے۔ نوجوان سڑکوں پر ہنگامہ آرائی، تیز آواز میں شور شرابہ، گالی گلوچ، نشہ آور اشیا کے استعمال اور غیر ضروری موٹر سائیکل اسٹنٹ سمیت ہر ایسی حرکت سے دور رہیں جو اسلام کی تعلیمات اور رسول اکرم ﷺ کی سیرت کے خلاف ہو۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ میلاد کے موقع پر نوجوانوں کا رویہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے سامنے بھی اسلام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس لیے اس موقع کو عبادت، درود و سلام اور خدمتِ خلق کے ذریعے منایا جائے، تاکہ عید میلاد النبی ﷺ محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنے کا ذریعہ بن سکے۔
وہ ایسی نے لگائی پھٹکار
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلوس کے دوران شور شرابے، سیٹیاں بجانے اور غیر مناسب سرگرمیوں سے گریز کریں اور اپنے کردار و عمل سے اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کریں۔
میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے اپنے بیان میں اویسی نے نوجوانوں سے کہحیدرآباد میں ہ وہ جلوس میں محض تفریح یا وقت گزاری کے لیے نہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ سے محبت اور دین کی دعوت کے جذبے کے ساتھ شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مسلمانوں کو دیکھ کر ان کے دین اور کردار کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں، اس لیے جلوس میں شریک ہر شخص کو اپنے رویے کا خیال رکھنا چاہیے۔
اویسی نے کہا کہ جلوس میں درود و سلام کا اہتمام کیا جائے، باادب انداز میں شرکت کی جائے اور ایسی کسی حرکت سے گریز کیا جائے جو اسلامی تعلیمات یا جلوس کے وقار کے خلاف ہو۔ انہوں نے نوجوانوں سے خاص طور پر اپیل کی کہ وہ سگریٹ نوشی نہ کریں اور گالی گلوچ یا نازیبا الفاظ کے استعمال سے بھی مکمل طور پر پرہیز کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلمان کے اچھے عمل کو دیکھ کر کسی غیر مسلم کے دل میں اسلام کے بارے میں محبت اور مثبت سوچ پیدا ہو جائے تو یہ اس کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ اس لیے میلاد کے جلوس کو دین کی خوبصورت تعلیمات، اخلاق اور محبت کا پیغام عام کرنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
اویسی نے اپنے خطاب میں درود و سلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دس رحمتیں اور دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس گناہ معاف کیے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کردار اور عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال بننا چاہیے اور اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، اس لیے انسان کو ہر وقت اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔
اویسی نے میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں شرکت کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ پُرامن، باوقار اور نظم و ضبط کے ساتھ جلوس میں شریک ہوں اور درود و سلام کے ذریعے رسول اکرم ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ ان کے مطابق میلاد کا اصل مقصد صرف جشن نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاق حسنہ اور اسلام کے پُرامن پیغام کو عام کرنا بھی ہے۔
فرنگی محلی نے کی اپیل
نئی دہلی:ہندوستان اسلامک سینٹر نے ربیع الاول کے موقع پر ہونے والی تقریبات اور جلوسوں کے حوالے سے ایک مشاورتی ہدایت جاری کرتے ہوئے مسلمانوں سے نظم و ضبط، احترام اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
مرکز نے 11 ربیع الاول (25 اگست) کو ہونے والی تقریبات میں شرکت کی ترغیب دی ہے، جبکہ 12 ربیع الاول (26 اگست) کو نکالے جانے والے جلوسوں میں مقررہ راستوں کی پابندی کرنے پر زور دیا ہے۔خصوصاً امین آباد پارک سے عیدگاہ تک کے تاریخی جلوس کے شرکاء کو انتظامیہ کی جانب سے طے کردہ راستے پر چلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مشاورتی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ شرکاء اپنے محلوں سے جلوس کے لیے روانہ ہوتے وقت جھنڈے لپیٹ کر رکھیں اور انہیں صرف امین آباد پارک پہنچنے کے بعد کھولیں۔مرکز نے جلوس کے دوران کلمہ اور درود شریف کا ورد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ایسے نعروں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جو کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرسکتے ہوں۔
ربیع الاول ایڈوائزری
☝️ 12 ربیع الاول مطابق 29 اگست 2026 کو نکلنے والے جلوسوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں اور پورے ملک میں جلوس اور جلسوں میں اخلاقِ نبوی کا مظاہرہ کریں۔
☝️ صرف انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ راستے پmر ہی جلوس نکالا جائے۔
☝️ جلوس میں شامل ہونے والی انجمنیں اپنے جھنڈے اور بینر کو اپنے گھروں سے لپیٹ کر لائیں اور جلوس میں شامل ہونے کے بعد جھنڈے بینر کھولیں۔
☝️ کسی بھی جلسے یا جلوس میں کوئی بھی ایسا نعرہ یا نغمہ نہ لگائیں جس سے کسی کے بھی مذہبی جذبات مجروح ہوں۔
☝️ جلوس میں ایسی کوئی حرکت نہ کریں جو اسلامی تعلیمات اور سرکاری ہدایات کے خلاف ہو۔
☝️ 12 ربیع الاول کو نوجوان راستوں پر کسی بھی طرح موٹر سائیکل اسٹنٹ نہ کریں۔
☝️ جلوس میں پورے ادب و احترام کے ساتھ کلمہ اور درود شریف کا ورد کریں۔
☝️ ملک کی سلامتی، امن اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی جائے۔
آئیے! اس عظیم موقع کو اتحاد، نظم و ضبط اور رسولِ کریم ﷺ سے محبت کے جذبے کے ساتھ منائیں اور ان کا پیغامِ رحمت، محبت اور امن دنیا تک پہنچائیں۔

