احسان فاضلی / سری نگر
برطانوی کوٹس وولڈ کے ٹی رومز کے گرم جوش اور مہمان نواز ماحول سے غیر معمولی واقفیت اور کشمیر کی منفرد سماجی ثقافت کے لیے اندرونی کشش نے چائے جائی کے قیام کو جنم دیا۔ یہاں چائے کی 60 سے زائد اقسام پیش کی جاتی ہیں اور ایک دہائی کے سفر میں اس نے اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی ہے۔
جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت اور کارپوریٹ شعبے، دونوں میں کام کرنے والی روحی نازکی نے دو مختلف ثقافتی روایات کو یکجا کرکے نہ صرف ایک کیفے قائم کیا بلکہ اسے ایک ثقافتی مرکز کی شکل بھی دی۔
جب روحی نازکی نے ممبئی میں تقریباً دو دہائیاں گزارنے کے بعد واپس کشمیر میں کام کرنے اور یہیں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے سامنے کئی امکانات آئے۔ اسی دوران 2015 کے آس پاس ان کی معروف تاجر جگدیش مہٹہ (مہتا) آف مہٹہ اسٹوڈیو سے اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں مختلف امکانات پر گفتگو ہوئی اور بالآخر ایک ایسے ٹی روم کے قیام کا تصور سامنے آیا جو محض کیفے نہ ہو بلکہ اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہو۔
چونکہ روحی نازکی انگلینڈ کا باقاعدگی سے دورہ کرتی رہی تھیں، اس لیے تاجر کے ساتھ ان کی گفتگو میں برطانوی کوٹس وولڈ کے ٹی رومز کی ثقافت کو کشمیری چائے کی مختلف اقسام اور کھانوں کی ثقافت کے ساتھ جوڑنے کا خیال سامنے آیا۔ اس خیال نے فوراً شکل اختیار کرلی، کیونکہ روحی نازکی کو اس بات کا افسوس تھا کہ بیرونِ کشمیر کے لوگوں کو ''کشمیر کے بارے میں بہت کم معلومات'' ہیں۔
روحی نازکی نے آواز دی وائس سے دریائے جہلم کے پانی پر واقع ایک ہاؤس بوٹ میں اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
''ہم نے ایک ٹی روم کھولنے کا فیصلہ کیا، جس میں برطانوی کوٹس وولڈ کا کچھ رنگ ہو، جہاں ماحول گرم جوش اور مہمان نواز ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ کشمیر کی نمکین چائے، کشمیری قہوہ وغیرہ کی مختلف روایات کو شامل کیا جائے۔''
یہ ہاؤس بوٹ اب ایک ''ڈونگا'' کی شکل اختیار کررہی ہے۔ ڈونگا کشمیر کے لوگوں کے ان قدیم رہائشی گھروں کو کہا جاتا تھا جو ڈل جھیل اور دریائے جہلم پر موجود ہوتے تھے۔
یہ ہاؤس بوٹ دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر، ریذیڈنسی روڈ کے کنارے واقع چائے جائی کے بالکل سامنے ہے۔ ریذیڈنسی روڈ اس مقام کو پولو گراؤنڈ سے الگ کرتی ہے اور پورا ماحول نہایت پرسکون ہے۔چائے جائی (یعنی چائے کی جگہ) اور ہاؤس بوٹ، دونوں میں وادی کے دارالحکومت کے قلب میں کشمیری ثقافت، روایات، فنون اور دستکاری کی جھلک نظر آتی ہے۔
آغاز اور مشکلات
اس طرح چائے جائی کا آغاز جون 2016 میں، رمضان سے قبل ہوا۔ تاہم مقدس ماہِ رمضان کے دوران کاروبار بہت کم رہا۔
اس کے فوراً بعد ایک بڑا دھچکا لگا۔ 8 جولائی 2016 کو عیدالفطر کے ایک روز بعد عسکریت پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پوری کشمیر وادی بندش، کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور جھڑپوں کی لپیٹ میں آگئی، جو چار ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہیں۔سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ''ہم نے کشمیری کھانا، ہریسہ پیش کرنا شروع کیا۔ یہ گھر میں تیار کیا جاتا تھا اور اب بھی گھر کے بنے ہوئے ہریسے کو خاندانوں کے لیے باوقار انداز میں پیش کیا جاتا ہے''، روحی نازکی نے آواز دی وائس کو بتایا۔
ہریسے نے کاروبار کو سہارا دیا
اپنے سفر میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے روحی نازکی نے بتایا کہ ہریسے نے کاروبار کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر نوجوان نسل ہریسے کی طرف متوجہ ہوئی اور بعض لوگ اسے شام کے وقت رات کے کھانے کے متبادل کے طور پر بھی پسند کرنے لگے۔
ہریسہ گوشت سے تیار ہونے والی ایک لذیذ کشمیری ڈش ہے، جو بنیادی طور پر سردیوں کے مہینوں میں رات بھر پکائی جاتی ہے۔ اسے چاول کے آٹے اور خوشبودار مصالحوں کے ساتھ ملا کر گاڑھے، پیسٹ نما شوربے کی شکل دی جاتی ہے۔
اسے گرم گرم گردہ اور تندوری روٹی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جو شدید سردی کے مہینوں میں جسم کو گرمی فراہم کرتی ہے۔
ہریسہ 14ویں صدی میں وسطی ایشیا سے کشمیر پہنچا۔ اگرچہ بہت سے کشمیری خاندان اسے گھروں میں تیار کرتے ہیں، تاہم روایتی طور پر یہ زیادہ تر شہر کے قدیم حصے میں واقع ہریسہ دکانوں پر دستیاب ہوتا ہے۔ سری نگر کی بڑی آبادی اب اسے آن لائن بھی حاصل کرتی ہے۔
صرف ہریسہ ہی نہیں بلکہ کئی دیگر روایتی اشیا اور استعمال کی چیزیں بھی یہاں دستیاب ہیں۔ ان میں ''سماوار'' بھی شامل ہے، جو تانبے سے بنا ایک روایتی برتن ہے، جس میں انگاروں کے لیے اندرونی جگہ موجود ہوتی ہے تاکہ نمکین چائے یا قہوہ مسلسل گرم رہے۔
یہ سب کچھ دریائے جہلم کے پرسکون پانیوں کے نظارے کے ساتھ واقع اس مرکز میں دستیاب ہے۔
صرف کیفے نہیں، ایک ثقافتی مرکز
روحی نازکی کہتی ہیں:
''اس نے سماجی اور ثقافتی سطح پر اثر پیدا کیا ہے۔ یہ صرف ایک کیفے نہیں ہے۔ ہم نے ثقافتی میدان میں بہت کام کیا ہے۔''
چائے جائی نے کشمیر کے مختلف موسموں کے حوالے سے مختلف ثقافتی تقریبات اور تہوار منعقد کیے۔ ان میں پمپور کے زعفران کے شہر میں ہبہ خاتون کے حوالے سے موسمِ بہار کا میلہ اور موسمِ سرما کا تہوار بھی شامل تھا۔
ان تقریبات میں بالخصوص نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔ فنکاروں نے مختلف پروگرام پیش کیے اور وادی کے مختلف علاقوں سے عام لوگ بھی ان میں شریک ہوئے۔
روحی نازکی نے بتایا:
''2017 کے موسمِ بہار کے میلے کے ساتھ 2016 سے ی2018 کے درمیان بہت سا کام کیا گیا۔''
فنکاروں، دستکاروں اور خواتین کو مختلف سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔
روحی کہتی ہیں کہ ان کے والد نے بھی اس کام میں ان کی حمایت کی۔
ان کے والد فاروق نازکی معروف شاعر اور نامور براڈکاسٹر تھے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک دوردرشن کیندر اور ریڈیو کشمیر، سری نگر، جنزسے اب آکاش وانی کہا جاتا ہے، کی سربراہی کی۔ ان کا انتقال 6 فروری 2024 کو ہوا۔
چائے جائی میں مشاعرے اور عید، شِو راتری (ہیراتھ) اور کرسمس کے مواقع پر مختلف تقریبات بھی منعقد کی گئیں، اگرچہ بعض تقریبات کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کشمیر کے اسٹریٹ فوڈ کو پیش کرنے والے پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
روحی نازکی کہتی ہیں:
''ہماری تمام تقریبات کے مرکز میں شمولیت کا تصور ہے، جس میں نوجوانوں اور عام لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔''
وادی سے باہر بھی چائے جائی کی مقبولیت
مختلف تقریبات کے ذریعے جب چائے جائی کی شہرت ہمالیہ سے باہر تک پہنچی تو وادی سے باہر کے بہت سے لوگ بھی یہاں آنے لگے اور اس مقام سے ان کا جذباتی تعلق قائم ہوگیا۔مقامی نوجوان بھی اس جگہ سے مزید جڑ گئے، کیونکہ یہ مقام 2018 میں ریلیز ہونے والی رومانوی فلم ''لیلیٰ مجنوں'' کی شوٹنگ کے لیے استعمال ہوا تھا۔ بعد میں بالی ووڈ کے دیگر اداکار بھی یہاں آتے رہے۔
روحی نازکی کے مطابق:
''جب بالی ووڈ کے اداکار یہاں آنے لگے تو یہ جگہ مقبول ہوگئی اور ان تقریبات کی وجہ سے لوگوں کا اس کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا ہوگیا۔''
وہ اس جگہ کو ''نہ کافی ہاؤس اور نہ ہی ایک اور کیفے'' قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس نے ایک ''ثقافتی جگہ'' کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔
60 سے زائد اقسام کی چائے اور مشروبات
چائے جائی میں دنیا بھر کی چائے سے لے کر کشمیری چائے تک تقریباً 60 اقسام کے مشروبات دستیاب ہیں۔
روحی نازکی کے مطابق ان میں 25 اقسام کی کوٹس وولڈ چائے اور کشمیر کی سات اقسام شامل ہیں، جن میں روایتی دیہی رنگ نمایاں ہے۔
دیہی اقسام میں مکئی کی روٹی اور دیگر مستند کشمیری کھانے شامل ہیں، جو عام طور پر ہوٹلوں میں دستیاب نہیں ہوتے۔
روحی کا کہنا ہے:
''مقصد یہ ہے کہ مقامی نوجوانوں کو کشمیر کی سبزیوں کی مختلف اقسام سے واقف کرایا جائے، جیسے ہَندھ، جو عام ڈینڈیلائن یعنی جنگلی پتوں والی سبزی ہے، اور کرِیچ۔''
چائے جائی نے قدیم پکوان تچ وائر کو بھی دوبارہ متعارف کرایا ہے، جو چاول، دال اور دیگر مصالحوں کا امتزاج ہے۔
وہ کہتی ہیں:
''ہم ہر چیز کے لیے ایک تجربہ تخلیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔''
یہاں کشمیری چائے، شیرمال، زعفرانی قہوہ، لواسا پیزا اور بہت سی دوسری اقسام پیش کی جاتی ہیں۔
کشمیری فیرن کو برانڈ بنانے کی کوشش
چائے جائی کو کشمیری فیرن کو ایک برانڈ کے طور پر متعارف کرانے اور اسے مقبول بنانے کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں اور مقامی سرکاری دفاتر میں فیرن پہننے کی حوصلہ شکنی کرنے والے سرکلر جاری کیے گئے تھے۔
چائے جائی نے ایک اور برانڈ بھی متعارف کرایا ہے جس کا نام ''پیالہ'' ہے۔ اس کے تحت کاغذی مشینی (Papier-mâché) کے فن سے مزین چائے کے کپ تیار کیے جاتے ہیں۔

