نئی دہلی: اردو زبان نے برصغیر میں صرف ادبی اور تہذیبی ورثے کو محفوظ کرنے میں ہی اہم کردار ادا نہیں کیا بلکہ طبی علوم، بالخصوص یونانی طب کے علمی سرمائے کو نسل در نسل منتقل کرنے کا بھی مؤثر ذریعہ رہی ہے۔
ڈاکٹر نورظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن نے 'اردو زبان میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی روایت' کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طبی تاریخ محض امراض، علاج اور اطبا کے احوال کا بیان نہیں، بلکہ یہ کسی معاشرے کے تہذیبی، علمی اور سماجی ارتقا کی اہم دستاویز بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اردو میں موجود طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کے اس قیمتی ورثے کو محفوظ کرکے نئی نسل تک پہنچانا علمی ذمہ داری ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے یہ سمینار نہرو گیسٹ ہاؤس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کمیٹی روم میں منعقد کیا۔ سمینار میں طبی تاریخ نویسی، تذکرہ نگاری، اردو زبان اور طب کے باہمی تعلق، یونانی طب کے لسانی و تہذیبی اثرات اور طبی علمی ورثے کے تحفظ جیسے موضوعات پر ماہرین نے اپنے خیالات اور تحقیقی مقالات پیش کیے۔
طبی ورثے کو ڈیجیٹل دور میں محفوظ کرنے کی ضرورت
افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر نورظہیر احمد نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں طبی، ادبی اور علمی ورثے کو جدید ذرائع کے ذریعے محفوظ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر ماضی کے علمی سرمائے کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ اور عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے تو اسلاف کی علمی کاوشیں محض تاریخ کا حصہ نہیں رہیں گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق اور جستجو کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے قومی اردو کونسل اور اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کو اس اہم اور منفرد موضوع پر سمینار کے انعقاد پر مبارک باد بھی پیش کی۔
اردو کونسل کی طبی اور سائنسی علوم کے لیے خدمات
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کونسل کے اغراض و مقاصد اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ قومی اردو کونسل نے ادبی اور تحقیقی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ طبی، سائنسی اور سماجی علوم کے میدان میں بھی اہم کام کیا ہے۔ ان کے مطابق کونسل کی جانب سے قدیم و جدید اطبا اور طب سے متعلق 50 سے زائد کتابوں کی ترتیب و تدوین بھی کی جا چکی ہے۔
طب اور اردو زبان کا قدیم رشتہ
سمینار کے مہمانِ اعزازی پروفیسر کوثر مظہری، صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اردو زبان اور طبی اصطلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ، تراکیب اور قوافی کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں کئی الفاظ طبی اصطلاحات سے مماثلت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اردو زبان و ادب کا طب، خصوصاً یونانی طب کی علمی اور تہذیبی روایت سے قدیم اور گہرا تعلق رہا ہے۔ یونانی طب کو صرف علاج کا ایک نظام سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع علمی و تہذیبی ورثہ ہے، جس کے اثرات زبان، ادب اور روزمرہ زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
طبی زبان مختلف تہذیبوں کے میل جول کا نتیجہ
دوسرے مہمانِ اعزازی ڈاکٹر یونس افتخار منشی، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن نے طبی زبان اور اس کے لسانی ارتقا پر اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر علم کی طرح طب کی بھی اپنی مخصوص زبان ہوتی ہے اور جس معاشرے میں یہ علم فروغ پاتا ہے، وہاں کی زبان طبی اصطلاحات کی تشکیل اور ترویج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طبی اصطلاحات کسی ایک زبان تک محدود نہیں رہتیں بلکہ مختلف تہذیبوں اور علمی روایتوں کے باہمی تعامل سے تشکیل پاتی ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور دیگر زبانوں سے طبی اصطلاحات میں شامل ہونے والے الفاظ کی مثالیں بھی پیش کیں۔
ڈاکٹر یونس افتخار منشی نے کہا کہ برصغیر میں یونانی طب کی علمی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے نسل در نسل منتقل کرنے میں اردو زبان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ اردو نے طبی علوم کے ابلاغ کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ یونانی طب کے علمی سرمائے کو محفوظ اور عام کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔
تذکرہ نگاری میں طبی روایت کی اہمیت
سمینار کا کلیدی خطاب حکیم وسیم احمد اعظمی، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر، سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن نے کیا۔ انہوں نے اردو تذکرہ نگاری کے ارتقا اور طبی تذکرہ نگاری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے فورٹ ولیم کالج کی علمی سرگرمیوں، مرزا علی لطف کے 'گلشنِ ہند'، حیدر بخش حیدری، میر تقی میر کے 'نکات الشعرا' اور محمد حسین آزاد کے 'آبِ حیات' جیسے اہم متون کا ذکر کرتے ہوئے اردو تذکرہ نگاری کی روایت میں ان کی اہمیت واضح کی۔
طبی تذکرہ نگاری کے حوالے سے انہوں نے 'تذکرۃ الاطباء'، 'طبقات الاطباء' اور دیگر تذکرۂ اطبا و حکما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تذکرے صرف اطبا، حکما اور ان کی تصانیف کا تعارف نہیں کراتے بلکہ اپنے عہد کی طبی فکر، علمی ماحول، تہذیبی صورت حال اور طب کے ارتقا کے بارے میں بھی اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔
حکیم وسیم احمد اعظمی نے کہا کہ ایک اچھے تذکرے میں اختصار کے ساتھ جامعیت، تحقیق پسندی، غیر جانب داری اور مستند معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ تذکرہ نگاری کا اسلوب متوازن اور غیر جانب دار ہونا چاہیے تاکہ کسی شخصیت اور اس کے علمی و فنی کارناموں کا حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کیا جا سکے۔
یونانی طب اور صحت کے حوالے سے موضوع کی اہمیت
سید منیر عظمت، سیکریٹری، اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے تعارفی کلمات میں اردو، طب اور برصغیر کی تاریخی و تہذیبی روایت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یونانی طب اور صحت کے حوالے سے موضوع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کی تعلیمی سرگرمیوں، سماجی شعور بیدار کرنے اور سماجی خدمات کا بھی ذکر کیا۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، لکھنؤ کیمپس نے کی، جبکہ ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی، جنرل سکریٹری، اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔
دو تکنیکی اجلاسوں میں تحقیقی مقالات پیش کیے گئے
افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر ادریس احمد، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ندیم احمد اور جناب عارف زیدی، سابق ڈین جامعہ ہمدرد، دہلی نے کی۔
اس اجلاس میں ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، پروفیسر عبداللہ عزیز، پروفیسر حکیم اشہر قدیر، حکیم امان اللہ، ڈاکٹر فیض الرحمن اقدس اور ڈاکٹر عبدالحلیم نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔
دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی، پروفیسر شاہ عالم اور پروفیسر علاءالدین خاں نے کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر خان محمد قیصر، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، ڈاکٹر محمد مقیم اور ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے اپنے مقالات پیش کیے، جبکہ نظامت ڈاکٹر ثاقب عمران نے انجام دی۔
سمینار میں پیش کیے گئے خطابات اور تحقیقی مقالات کا مجموعی محور یہ تھا کہ اردو میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری محض ماضی کے علمی ذخیرے کا بیان نہیں بلکہ برصغیر کی طبی، لسانی، تہذیبی اور سماجی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس علمی ورثے کی تدوین، تحقیق اور جدید ذرائع سے حفاظت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

