بھکتی چالک
''ہم کسی نہ کسی طرح سلمان بھائی سے ملنا چاہتے تھے۔ ان سے رابطہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن گاؤں سے ہونے کی وجہ سے ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ممبئی میں یہ کتنا مشکل ہوگا۔''یہ کہنا ہے مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے کسان دھننجے ورکَر کا جن کی ایک انوکھی بکری نے بقرعید سے قبل انہیں سوشل میڈیا پر سنسنی بنا دیا ہے۔
ستارا کے مان تعلقہ کے رہائشی ورکَر حال ہی میں اس وقت وائرل ہوگئے جب انہوں نے اپنی بکری کی ویڈیو پوسٹ کی جس کی پیشانی پر ہلال جیسا نمایاں نشان موجود ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے یہ نایاب بکرا بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو رعایتی قیمت پر فروخت کرنے کی پیشکش بھی کی۔
ہر سال بقرعید سے پہلے ہندستان بھر کی مویشی منڈیوں میں ایسے منفرد اور نایاب بکرے لائے جاتے ہیں جن پر خاص نشانات ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ کچھ فروخت کنندگان کہتے ہیں کہ ان کے بکروں کے جسم پر قدرتی طور پر ''اللہ'' یا ''محمد'' لکھا ہوا ہے جبکہ بعض بکرے ہلال اور ستارے جیسے نقش رکھتے ہیں۔ایسے بکرے لوگوں کی بڑی توجہ حاصل کرتے ہیں اور ان کی قیمتیں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔ شوقین خریدار انہیں خریدنے کے لیے لاکھوں بلکہ بعض اوقات کروڑوں روپے تک خرچ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
اس سال سب سے بڑی توجہ کا مرکز ستارا کا دھننجے ورکَر کا ''ہلالی بکرا'' بنا ہوا ہے۔آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے ورکَر نے اس بکرے کی کہانی سنائی اور اپنی دلی خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے سلمان خان کو فروخت کرنا چاہتے ہیں جنہیں مداح محبت سے ''بھائی جان'' کہتے ہیں۔یہ بکرا کسی بازار سے خریدا نہیں گیا تھا بلکہ تقریباً ڈھائی سال پہلے ورکَر کے اپنے باڑے میں پیدا ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ دوسرے بچوں کی طرح ہی دکھائی دیتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے یہ بڑا ہوتا گیا اس کی پیشانی پر موجود سفید نشان نمایاں ہوتا گیا اور آخرکار ایک مکمل ہلالی شکل اختیار کرگیا۔
ورکَر کہتے ہیں کہ ''یہ بکرا ہماری ایک گھریلو بکری کے یہاں پیدا ہوا تھا۔ شروع میں ہم نے اس نشان پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ لیکن جیسے جیسے یہ بڑا ہوا اس کی خوبصورتی اور شاندار انداز واضح ہوتا گیا۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ یہ کوئی عام بکرا نہیں بلکہ ایک 'ہلالی بکرا' ہے۔'جلد ہی اس بکرے کی خبر پورے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں پھیل گئی۔ تجسس رکھنے والے لوگ اس بکرے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ورکَر کے باڑے کا رخ کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس بکرے کی باتیں ایک نایاب قدرتی عجوبے کے طور پر ہونے لگیں۔
ورکَر کو جلد احساس ہوگیا کہ ایسا غیر معمولی بکرا دیہی بازار میں مناسب قیمت حاصل نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے اسے ممبئی لے جانے کا سوچا جہاں بقرعید کے خاص بکروں کی مانگ کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اپنے چھوٹے سے گاؤں سے ممبئی جیسے مصروف شہر تک کا سفر انہیں بہت مشکل محسوس ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ ''بکرے کو ممبئی لے جانا ہمارے بس سے باہر تھا۔ سفر کے اخراجات تھے۔ رہائش کا مسئلہ تھا۔ اور وہاں کی بڑی مویشی منڈیوں کے بارے میں ہمیں بہت کم معلومات تھیں۔''

