Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
وزیراعظم کا ویژن: 2030 تک مسلم لڑکیوں کو بڑے پیمانے پر فائدے کی امید

وزیراعظم کا ویژن: 2030 تک مسلم لڑکیوں کو بڑے پیمانے پر فائدے کی امید

Awaz The Voice 1 week ago

بھونیشوروزیرِ اعظم نریندر مودی کے 2030 تک 20 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کے لیے تیار کرنے کے وژن کے مطابق، کلنگا یونیورسٹی (رائے پور، چھتیس گڑھ)، زی انسٹی ٹیوٹ آف کریئیٹو آرٹ (زیکا) اور زی لرن (ممبئی) سمیت کئی اداروں نے اڈیشہ میں اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس اور گرافک ڈیزائن پر مبنی تین سالہ تکنیکی اور ہنر پر مبنی کورسز شروع کیے ہیں۔ اس اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے زی لرن کے نیشنل اکیڈمک ہیڈ کاشی ناتھ پاترو نے جمعرات کو کہا کہ ان کے ادارے وزیرِ اعظم کے وژن کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ خصوصی تین سالہ پروگراموں کے ذریعے وہ طلبہ کو تفریح، ای-کامرس اور ڈیجیٹل میڈیا صنعتوں میں ابھرنے والے مواقع کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''وزیرِ اعظم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ 2030 تک 20 لاکھ ملازمتیں دستیاب ہوں گی۔ بے شمار مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم تکنیکی طور پر چین جتنے مضبوط نہ ہوں، لیکن اینیمیشن اور ویژول ایفیکٹس کے میدان میں ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم یہ کورسز یہاں اس لیے لائے ہیں تاکہ ہندوستان کے نوجوانوں کو ہالی ووڈ، بالی ووڈ، ٹالی ووڈ اور جنوبی ہندوستانی فلم صنعتوں کے پروجیکٹس پر کام کرنے کے مواقع مل سکیں۔ یہ سب کے لیے ایک بہترین موقع ہے کیونکہ ہم طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے تربیت دیں گے۔ ہمارے پاس اس پروگرام کے لیے بہترین انفراسٹرکچر اور سہولیات موجود ہیں۔ پروگرام کے صنعت پر مبنی ڈھانچے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کورسز ہنر پر مبنی تعلیم کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، جن میں عملی تربیت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''یہ کورس اسکل بیسڈ لرننگ پر مبنی ہے، جس میں 70 فیصد عملی اور 30 فیصد نظری تعلیم شامل ہے۔ چونکہ طلبہ عملی تربیت کے ذریعے اپنی مہارتوں کو بہتر بناتے ہیں، اور یہ ایک ووکیشنل ایجوکیشن ہے، اس لیے ملازمت حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ درحقیقت ہمارے 50 فیصد طلبہ کورس مکمل ہونے تک نوکریاں حاصل کر لیتے ہیں۔'' پاترو نے مزید کہا کہ ادارے طلبہ کو ڈیجیٹل معیشت میں ریموٹ اور فری لانس کام کے مواقع کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ''جو طلبہ باقاعدہ ملازمت حاصل نہیں کر پاتے، ان کے لیے گھر بیٹھے کام کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ آپ ایمیزون پر جو مصنوعات دیکھتے ہیں، وہ تمام تھری ڈی پروڈکٹس ہوتی ہیں۔ طلبہ گھر بیٹھے یہ مصنوعات تیار کر کے فلپ کارٹ اور ایمیزون جیسی کمپنیوں کو فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمارے طلبہ کئی ای-کامرس کمپنیوں کو یہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ بائیکس اور کاروں کے جو اشتہارات دیکھتے ہیں، وہ اکثر تھری ڈی ماڈلز پر مبنی ہوتے ہیں۔ ویژول ایفیکٹس کو شامل کر کے حتمی ویڈیو تیار کی جاتی ہے۔ زیکا، کٹک کی طالبہ ساحستہ شفا نے کہا کہ یہ پروگرام قدامت پسند خاندانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بارہویں جماعت کے بعد یہاں اپنی مہارتیں بہتر بنانے کے لیے آئی ہوں۔ میرے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ میں گھر بیٹھے کام کر سکتی ہوں۔ میرے خاندان کے کچھ افراد قدامت پسند ہیں اور میں باہر جا کر کام نہیں کر سکتی، لیکن گرافک ڈیزائن کے ذریعے میں اپنی صلاحیتیں نکھار سکتی ہوں اور گھر سے کام کر سکتی ہوں۔ اس شعبے میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ میں سوشل میڈیا کے ذریعے فری لانسنگ کر سکتی ہوں اور گھر بیٹھے پوسٹرز بھی بنا سکتی ہوں۔ اداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو صنعت سے متعلق تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنا اور تخلیقی و ڈیجیٹل شعبوں میں مستقبل کے روزگار کے لیے تیار کرنا ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu