دبئی : تقریباً 20 سال قبل کیرالا سے روزگار کی تلاش میں سعودی عرب جانے والے اور وہاں سزائے موت کے قیدی بن جانے والے عبد الرحیم اب آخرکار وطن واپسی کے دہانے پر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خوف۔ غیر یقینی صورتحال۔ قانونی جنگ اور ایک غیرمعمولی عوامی مہم سے بھرا ایک طویل باب اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔
کوزیکوڈ ضلع کے رہنے والے عبد الرحیم دسمبر 2006 سے سعودی جیل میں قید ہیں۔ ان پر اپنے زیر نگرانی ایک نوعمر لڑکے کی موت کا الزام تھا۔ خلیجی ملک پہنچنے کے صرف ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد گرفتار کیے جانے والے اس وقت کے 26 سالہ عبد الرحیم کو بالآخر 2011 میں سعودی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد میں اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا جس کے بعد کیرالا میں ان کے اہل خانہ برسوں تک ممکنہ پھانسی کے خوف میں زندگی گزارتے رہے۔
لیکن 2024 میں عبد الرحیم کی قسمت نے اچانک نیا رخ اختیار کیا۔طویل مذاکرات کے بعد مقتول کے خاندان نے 34 کروڑ روپے بطور دیت وصول کرنے کے بدلے عبد الرحیم کو معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ رقم عبد الرحیم کے غریب خاندان کے لیے خود جمع کرنا ناممکن تھی لیکن دنیا بھر کے ملیالی افراد کی حمایت سے چلائی گئی ایک بڑی کراؤڈ فنڈنگ مہم کے ذریعے یہ رقم جمع کرلی گئی۔ عام مزدوروں۔ تارکین وطن۔ سماجی تنظیموں اور معروف شخصیات نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یہ مہم کیرالا کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی فنڈ ریزنگ مہمات میں شامل ہوگئی۔
مقتول کے خاندان کی جانب سے معاوضہ قبول کیے جانے کے بعد سزائے موت ختم کردی گئی۔ تاہم سعودی حکام نے حکم دیا کہ عبد الرحیم اپنی 20 سالہ قید مکمل کریں۔ مقدمے میں استعمال ہونے والے عربی کیلنڈر کے مطابق یہ مدت اس سال 20 مئی کو مکمل ہوگئی۔
کوزیکوڈ میں ان کے خاندان کے لیے اب ان کی واپسی کا انتظار ایک جذباتی مرحلہ بن چکا ہے۔
عبد الرحیم کے بھائی نذیر نے کہا"ہم سب بے چینی سے ان کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے ایک کٹھن آزمائش رہی ہے۔ ہمارے والد محمد کٹی عبد الرحیم کی سعودی جیل میں قید کے صرف 6 ماہ بعد انتقال کر گئے تھے۔ ہماری والدہ فاطمہ ان تمام برسوں میں صرف ایک مرتبہ ان سے مل سکیں اور وہ بھی نومبر 2024 میں جب معافی کی منظوری ملی۔ کبھی کبھار ہونے والی ویڈیو کالز ہی ہمارے لیے واحد تسلی تھیں۔"اس مہم سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ عبد الرحیم کی رہائی کے آخری سرکاری مراحل اب جاری ہیں۔
عبد الرحیم کی رہائی کے لیے قائم کی گئی ایکشن کمیٹی کے کنوینر مجید امبالاکنڈی نے کہا کہ ہندوستانی سفارت خانے کے حکام۔ سماجی کارکن اشرف وینگاڈ اور عبد الرحیم کے پاور آف اٹارنی رکھنے والے صدیق تووور سعودی حکام کے ساتھ مل کر ان کی جلد رہائی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا"عبد الرحیم اپنی 20 سالہ سزا مکمل کرچکے ہیں۔ جیل کے نظام کے اندر باقی قانونی کارروائیاں مکمل ہوتے ہی ان کی رہائی حقیقت بن جائے گی۔"
عبد الرحیم کی کہانی ان قانونی اور سفارتی کوششوں سے بہت پہلے شروع ہوئی تھی جنہوں نے بعد میں ان کی پوری زندگی کو بدل دیا۔ سعودی عرب جانے سے قبل وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کیرالا میں آٹو رکشہ اور اسکول بس چلاتے تھے۔ 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے عبد الرحیم 28 نومبر 2006 کو ڈرائیور کی ملازمت حاصل کرنے کے بعد ریاض روانہ ہوئے تھے۔
مقدمے میں پیش کیے گئے بیانات کے مطابق عبد الرحیم کو اپنے کفیل کے 17 سالہ بیٹے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جو مفلوج تھا اور سانس لینے کے آلے پر منحصر تھا۔ 24 دسمبر 2006 کو جب عبد الرحیم گاڑی چلا رہے تھے اور نوجوان پچھلی نشست پر بیٹھا تھا تو مبینہ طور پر سانس فراہم کرنے والا آلہ الگ ہوگیا جس کے نتیجے میں لڑکے کی موت ہوگئی۔عبد الرحیم کو چند ہی دنوں بعد گرفتار کرلیا گیا یعنی سعودی عرب پہنچنے کے صرف 28 دن بعد۔
اس کے بعد ایک طویل قانونی جنگ شروع ہوئی جس نے کیرالا کی تارکین وطن برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھنے کے باوجود مہم چلانے والے افراد مقتول کے خاندان سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھے۔
اکتوبر 2022 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب مقتول کا خاندان ثالثی پر آمادہ ہوگیا۔ ایک سال بعد انہوں نے دیت قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ اطلاعات کے مطابق ثالثوں نے عبد الرحیم کو پھانسی سے بچانے کے لیے 16 اپریل 2024 کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور خاندان اتنی بڑی رقم جمع کرنے سے قاصر تھا۔ ایسے میں مارچ 2024 میں کوزیکوڈ کے علاقے فیروک کے رہائشیوں نے ایک ایکشن کمیٹی قائم کی۔ "سیو عبد الرحیم" کے نام سے کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم شروع کیا گیا اور سوشل میڈیا و تارکین وطن کے نیٹ ورکس کے ذریعے یہ اپیل تیزی سے پھیل گئی۔
چند ہی ہفتوں میں اس مہم کے ذریعے 34 کروڑ روپے جمع کرلیے گئے۔اس مہم کی کھل کر حمایت کرنے والوں میں معروف تاجر بوبی چیمنور بھی شامل تھے جنہوں نے مہم کے لیے فنڈ اور بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ترواننت پورم سے کاسرگوڈ تک سفر کیا۔اب تقریباً دو دہائیوں کی قید کے بعد عبد الرحیم کا خاندان اس لمحے کا انتظار کر رہا ہے جو کبھی ناممکن دکھائی دیتا تھا یعنی ان کی گھر واپسی۔

