علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں اسٹوڈنٹس کے طویل مظاہروں اور احتجاج کے بعد اخر کار یونیورسٹی حکام نے اسٹوڈنٹس یونین کے تازہ الیکشن کا اعلان کر دیا ہے, یاد رہے کہ پچھلے کئی دنوں سے ایک ایم یو میں تعلیمی نظام ٹھپ ہو گیا تھا کیونکہ ہزاروں اسٹوڈنٹس سڑکوں پر اگئے تھے اور کیمپس میں مسلسل مظاہرے جاری تھے- اب اے ایم یو نے نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے طلبہ یونین کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اعلان کے مطابق انتخابات کے لیے ووٹنگ 5 نومبر کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی اسی روز شام 7 بجے شروع ہوگی اور نتائج کے اعلان تک جاری رہے گی۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق متعلقہ ڈین 26 اکتوبر کو صبح 10 بجے ووٹر فہرستیں آویزاں کریں گے۔ ان فہرستوں میں تصحیح کے لیے درخواستیں 27 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے تک جمع کرائی جا سکیں گی، جبکہ حتمی ووٹر فہرستیں اسی روز شام 4 بجے جاری کی جائیں گی۔
امیدوار 29 اکتوبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک طلبہ یونین کے دفتر میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال اسی روز شام 4 بجے ہوگی۔ امیدوار 30 اکتوبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک اپنے کاغذات واپس لے سکتے ہیں۔ درست قرار دیے گئے امیدواروں کی فہرست اسی روز شام 4 بجے جاری کی جائے گی۔
31 اکتوبر کو صبح 10 بجے امیدواروں کو سیریل نمبر الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ سیریل نمبروں کے ساتھ حتمی فہرست شام 4 بجے شائع ہوگی۔ امیدواروں کی حتمی تقاریر 3 نومبر کو دوپہر 2 بجے سے یونین ہال میں ہوں گی۔
ووٹنگ 5 نومبر کو متعلقہ فیکلٹیوں میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔ دوپہر ایک بجے سے 2 بجے تک کھانے کا وقفہ رہے گا۔ ووٹوں کی گنتی شام 7 بجے شروع ہوگی۔ ووٹ شماری کے مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کے لیے شعبۂ قانون کے پروفیسر جاوید طالب کو چیف الیکشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ویمنس کالج کی انڈرگریجویٹ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے ویمنس کالج کے شعبۂ انگریزی کی پروفیسر نازیہ حسن کو چیف الیکشن آفیسر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری اے ایم یو کے نئے پراکٹر مقرر
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے صدر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کو یونیورسٹی کا پراکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری دو سال کے لیے یا آئندہ احکامات جاری ہونے تک مؤثر رہے گی۔
پروفیسر انصاری کو تدریس اور تحقیق کا 30 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 1994 میں اے ایم یو کے شعبۂ سیاسیات میں لیکچرر کی حیثیت سے تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور 2009 میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے سیاسیات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی اسی یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ ان کی تخصص کے اہم شعبوں میں پبلک ایڈمنسٹریشن اور حکومتِ ہند شامل ہیں۔
پروفیسر انصاری یونیورسٹی کے مرکز برائے فاصلاتی تعلیم کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف حیثیتوں سے یونیورسٹی کے تعلیمی اور انتظامی امور میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ یونیورسٹی کورٹ، اکیڈمک کونسل اور ایگزیکٹیو کونسل کے منتخب رکن بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے جرنل آف ڈسٹینس ایجوکیشن اینڈ مینجمنٹ ریسرچ کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ انڈین جرنل آف پالیٹکس کی مجلسِ ادارت کے رکن بھی رہے ہیں۔
ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں طرزِ حکمرانی، انتظامی اصلاحات، عدالتی نظرِ ثانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بدعنوانی، صنفی مساوات، دیہی ترقی اور فاصلاتی تعلیم جیسے موضوعات شامل ہیں۔
پروفیسر انصاری نے متعدد کتابیں تصنیف اور مرتب کی ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ایڈمنسٹریٹیو سیٹ اَپ آف سلطنت آف عمان، ایجوکیشن سسٹم اینڈ مارجنلائزڈ سیکشن آف دی سوسائٹی، ویمنس امپاورمنٹ تھرو ایجوکیشن پالیسیز، رورل ڈیولپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ جنریشن اِن انڈیا: پالیسیز فار سسٹینیبل ڈیولپمنٹ اور اوپن اینڈ ڈسٹینس لرننگ اِن انڈیا: نیشنل پرسپیکٹیو اِن ڈیجیٹل ایج شامل ہیں۔
انہوں نے اب تک 22 پی ایچ ڈی اسکالرز کی رہنمائی کی ہے، جنہیں ڈگریاں تفویض کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نصابی مواد اور آن لائن تدریس کے لیے تعلیمی وسائل کی تیاری میں بھی تعاون کرتے رہے ہیں۔

