Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
شگفتہ شیخ:  مسلسل 6 سرکاری امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے بنیں افسر

شگفتہ شیخ: مسلسل 6 سرکاری امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے بنیں افسر

بھکتی چالک

دھاراشیو ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ترکھڑا کی ایک نوجوان لڑکی۔ والد ٹرک ڈرائیور اور والدہ کھیتوں میں مزدوری کرتی تھیں۔ خواتین کی تعلیم کے خلاف معاشرتی مخالفت۔ لوگوں کے طعنے اور مالی مشکلات کا پہاڑ۔ ان تمام نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے شگفتہ شیخ نے مسلسل 6 سرکاری امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے ایک مثال قائم کردی۔انتظامی خدمات میں جانے کے خواب کے ساتھ ٹی سی ایس کی اچھی خاصی ملازمت چھوڑنے والی شگفتہ شیخ کا حال ہی میں 'ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو آفیسر' کے اہم عہدے پر انتخاب ہوا ہے۔ 'آواز دی وائس' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جدوجہد سے کامیابی تک کے سفر کی پوری کہانی بیان کی۔

تعلیم کے لیے جدوجہد

دھاراشیو ضلع کا ترکھڑا گاؤں شگفتہ کا آبائی گاؤں ہے۔ ایک بڑی بہن اور 2 چھوٹے بھائیوں کے ساتھ پرورش پانے والی شگفتہ نے گھر کی غربت کو بہت قریب سے دیکھا۔ گاؤں سے 10ویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دھاراشیو سے سائنس کے شعبے میں 11ویں اور 12ویں جماعت کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد لاتور سے کمپیوٹر سائنس میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔والدین کی مالی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے شگفتہ نے تعلیمی قرض لے کر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔انجینئرنگ کے بعد انہیں کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے ٹی سی ایس میں ملازمت مل گئی۔ پونے میں 7 ماہ ملازمت کرنے کے بعد ان کے دل میں کارپوریٹ زندگی کے بجائے انتظامی خدمات کے ذریعے سماج کی خدمت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ریاستی خدمات کے مین امتحان کے لیے کوالیفائی کرتے ہی انہوں نے کارپوریٹ ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور پوری توجہ کے ساتھ امتحان کی تیاری شروع کردی۔

جدوجہد کے دوران ڈپریشن کا مرحلہ

پونے منتقل ہوکر مسابقتی امتحانات کی تیاری شروع کرنے کے باوجود کامیابی آسان نہیں تھی۔ وہ ابتدائی امتحان میں پہلی 3 کوششوں میں کامیاب ہوئیں لیکن مین امتحان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی پسندیدہ STI کی پوسٹ صرف 4 نمبروں سے ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے شگفتہ بتاتی ہیں کہ وہ صرف 4 نمبروں سے STI کی اپنی خوابوں کی پوسٹ حاصل نہیں کرسکیں اور حتمی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکیں۔ اس ناکامی نے انہیں شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا۔ اس صدمے سے باہر آنے میں انہیں تقریباً ڈیڑھ سال کا وقت لگا۔

ان کی جمع پونجی ختم ہوچکی تھی لیکن ہار ماننا ان کی فطرت میں نہیں تھا۔ پونے میں رہنے اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے مسابقتی امتحانات کی کتابیں شائع کرنے والے ایک ادارے میں پروف ریڈر اور کنٹینٹ رائٹر کی ملازمت شروع کردی۔ ان کی زیر نگرانی تیار ہونے والی ایک کتاب کی ایک لاکھ تک کاپیاں فروخت ہوئیں۔ انہیں اس کتاب پر نام کا کریڈٹ نہیں ملا لیکن اس کام سے ان کی پڑھائی بھی مضبوط ہوئی اور مالی مشکلات بھی کچھ کم ہوئیں۔

6 مسلسل سرکاری امتحانات میں شاندار کامیابی

ڈپریشن سے باہر آنے کے بعد شگفتہ نے پوری توجہ انتظامی خدمات کے امتحانات پر مرکوز کردی۔ انہوں نے 2023 میں جاری ہونے والی تمام بھرتیوں کے لیے درخواستیں دیں اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اگلے 2 سال کے دوران انہوں نے جن 6 سرکاری امتحانات میں شرکت کی ان سب میں کامیابی حاصل کی۔انہیں محکمہ آبپاشی میں کینال انسپکٹر کے طور پر کامیابی ملی۔ اس کے ساتھ ہی 6 مختلف عہدوں پر ان کا انتخاب ہوا۔ ان میں رتناگیری ضلع پریشد میں جونیئر اسسٹنٹ۔ منترالیہ میں اسسٹنٹ۔ لاتور ایگریکلچر ڈائریکٹوریٹ میں ریونیو اسسٹنٹ۔ ممبئی جی ایس ٹی محکمہ میں ٹیکس اسسٹنٹ اور پونے ضلع پریشد میں اسسٹنٹ کے عہدے شامل ہیں۔ان میں سے شگفتہ نے کینال انسپکٹر کے عہدے پر تقرری قبول کی اور بیڑ ضلع میں 2 سال تک ایمانداری سے اپنی خدمات انجام دیں۔ باقی 5 عہدوں سے انہوں نے خود دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ دیگر مستحق امیدواروں کو موقع مل سکے۔

معاشرے کے رویے کا سامنا

مسلم خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا شگفتہ کے لیے ایک بڑی جدوجہد تھی۔ اپنے خاندانی اور معاشرتی مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے شگفتہ کہتی ہیں کہ مسلم خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے لیے تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنا ایک بالکل مختلف قسم کی جدوجہد ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہیں برقع کے بغیر گھر سے باہر نکلنے میں خوف محسوس ہوتا تھا۔وہ مزید بتاتی ہیں کہ اگر ان کا دوپٹہ ذرا سا بھی سرک جاتا تو لوگ ان کے خاندان کو مشورہ دینے لگتے کہ لڑکی کو جلد شادی کردینی چاہیے کیونکہ وہ بگڑ رہی ہے۔ تاہم شگفتہ اپنی تعلیم کے معاملے میں ثابت قدم رہیں۔ خاندان کے محدود مالی وسائل کی وجہ سے ان کے والدین مالی مدد تو نہیں کرپاتے تھے لیکن انہوں نے شگفتہ کو بھرپور ذہنی اور اخلاقی حمایت دی۔مسلم لڑکیوں کو آج بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے درپیش مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شگفتہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی اس وقت تک نہ کریں جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوجائیں۔ ساتھ ہی لڑکیوں کو بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے ان کے خاندان کی عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچے۔

'ٹیکس اسیسمنٹ آفیسر' کی حیثیت سے نئی ذمہ داری

پونے ضلع پریشد کے نتائج آنے کے بعد شگفتہ نے کینال انسپکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور پونے میں بطور اسسٹنٹ ذمہ داری سنبھال لی۔ اب ان کا انتخاب 'ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو آفیسر' کے اہم عہدے پر ہوا ہے۔ آنے والے ہفتے میں وہ اپنی موجودہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر نئی ذمہ داری سنبھالیں گی۔اپنے مستقبل کے سفر کے بارے میں شگفتہ پُراعتماد انداز میں کہتی ہیں کہ وہ آنے والی تمام ذمہ داریوں اور چیلنجز کو پوری ایمانداری کے ساتھ نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داری اس طرح ادا کرنا چاہتی ہیں کہ ان کے عہدے کے ساتھ انصاف بھی ہو اور اس کی عزت بھی بڑھے۔مایوس نوجوانوں کے لیے شگفتہ شیخ کا سفر ایک نئی امید ہے۔ ناکامی کے سامنے ٹوٹ جانے کے بجائے دوبارہ خود کو ثابت کرنا اور بلندیوں کی طرف پرواز کرنا شگفتہ شیخ کی کامیابی کی سب سے بڑی مثال ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Awaz The Voice Urdu