Awaz The Voice
Awaz The Voice

رجنی کانت کی صحت خراب ۔اسپتال میں داخل

  • 33d
  • 0 views
  • 2 shares

رجنی کانت کی صحت خراب ۔اسپتال میں داخل

آواز دی وائس : سپر اسٹار رجنی کانت کی طبیعت جمعرات کو خراب ہوگئی۔ انہیں چنئی کے کاویری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ تاہم انہیں معمول کے چیک اپ کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔ جہاں وہ کل تک قیام کریں گے۔ اس کے بعد وہ وطن واپس آجائیں گے۔ ٹالی ووڈ کے تجارتی تجزیہ کار رمیش بالا کے مطابق رجنی کانت کی اہلیہ لتھا نے کہا ہے کہ یہ معمول کا میڈیکل چیک اپ ہے۔ رجنی کانت کے مداحوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں شروع کر دی ہیں۔

۔۔ 18 جون کو امریکہ گئے

رجنی کانت ہر سال ایک بار باقاعدہ صحت کی جانچ کے لیے امریکہ جاتے ہیں۔ اس بار وہ 18 جون کو امریکہ گئے اور وہاں تین ہفتے رہے۔ انہیں پہلے ہی چیک اپ کے لیے امریکہ جانا تھا، لیکن کووڈ لاک ڈاؤن اور فلموں کی شوٹنگ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ رجنی کانت 9 جولائی کو ہندوستان واپس آئے۔ اہم بات یہ ہے کہ رجنی کانت کا 2016 میں امریکہ میں گردے کی پیوند کاری ہوئی تھی۔

صحت کی وجہ سے سیاست سے دور رہیں

گزشتہ سال دسمبر میں رجنی کانت کی طبیعت بگڑ گئی تھی جس کے لیے انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 70 سالہ رجنی کو بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ اور تھکاوٹ کی شکایت تھی۔ خرابی صحت کے باعث انہوں نے گزشتہ سال سیاست میں آنے کا فیصلہ موخر کر دیا تھا۔ وہ پونگل پر اپنی پارٹی شروع کرنے والے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

#Tags ہندوستان


Dailyhunt

مزید پڑھیں
معيشت
معيشت

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے
  • 1hr
  • 0 views
  • 1 shares

دانش ریاض، معیشت،ممبئی

یہ کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے۔ نوجوانوں کے ایک گروپ پر غلبہ دین کا سودا سمایا ہوا تھا۔وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے خود بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے جو اسلاف کہلاتے ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں اس کی تحریک چلائی اور ابلیسی ٹولوں میں کہرام مچادیا ۔اسی دوران کچھ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ کہیں یہ ملت کے اجارہ دار نہ بن جائیں لہذا رقیب بن کر تھانے میں رپٹ لکھوانا شروع کردیا اور یہ شکایت درج کروائی کہ اس دور میں بھی کچھ لوگ خدا کا نام لینا چاہتے ہیں لہذا ان پرکارروائی لازم ہے۔ابلیس کے نمائندے پہلے سےگھات لگائے بیٹھے تھے ،انہوں نے آناً فاناً ایسی کارروائی کی کہ سیکڑوں گھر آہ و بکا کا نظارہ پیش کرنے لگے۔جب ظلم کا ٹانڈو تھوڑا کم ہوا تو سیکڑوں نوجوان جو سلاخوں کے پیچھے بھیج دئے گئے تھے۔ ان کی ضمانتیں منظور ہونی شروع ہوئیں اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جس ملت کے نام پر وہ سنت یوسفی ادا کرنے گئے تھے وہی ملت ان کی ضمانت لینے کو تیار نہ تھی اور پھر غیر مسلموں نے ان کی ضمانتیں کروائیں اور پھر وہ رہائی کی دہلیز تک پہنچے۔
دوتین روز قبل جب میں نے مولانا عمر گوتم کی بیٹی کا دردچھلکتے دیکھا تو محسوس ہواکہ اس معصوم بہن نے بےجا ہی شکوہ کیا ہے یہ ملت توآرین خان کی ماں(Gauri Chhibber) گوری چھبر کا درد محسوس کرتی ہےاسے ملت کی اس بیٹی کا درد کیونکر محسوس ہوگا جو دین کے نام پر ظلم و ستم برداشت کررہی ہو ۔ اس ملت کے بزرگان تو اپنی امارت قائم کرنے میں کروڑوں روپیہ بریانی پر صرف کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات سے کیا خبر کہ کوئی دین کے نام پر سوکھی روٹی سے بھی محروم ہورہا ہے۔ اس ملت کے ذی ہوش تو جلسے جلوس،ویبی نار اور سیمینار پر لاکھوں روپیہ خرچ کرسکتے ہیں لیکن انہیں کسی ایسے جلسے کی کیا حاجت جہاں دین کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنے والوں کے خلاف لام بندی کی گئی ہو۔
ہاں دین کے نام پر ایک کاروبار میں برسوں سے دیکھ رہا ہوںوہ یہ کہ
مہاراشٹر کا مسلمان آسام اور تریپورہ میں ہورہے ظلم پر تومچل جاتا ہے لیکن مہاراشٹر میں ہی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کررہا ہو تو اس پر جوں تک نہیں رینگتی۔
بہار کا مسلمان دین و شریعت بچانے میں لاٹھی ڈنڈے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن جب اسی بہار میں کسی مسلمان کی ہندتوا وادی لنچنگ کردیتے ہیں تو اس کا خون جوش نہیں مارتا۔
اترپردیش کا مسلمان لال ٹوپی پہن کر سلامی مارنا تو فخر سمجھتا ہے لیکن جب کسی رامپوری ٹوپی کی عزت اترتی ہے تو خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
دراصل ہمارے لیڈران کشمیر میں امن کی بحالی کے لئے جنیوا تو چلے جاتے ہیں لیکن معصوم بلکتے بچوں کے قتل عام پر وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھی جمع ہونا توہین سمجھتے ہیں۔
ہمارے لیڈران چار مینار سے نکل کر قطب مینار پر دھرنا دینے تو چلے آتے ہیں لیکن مینار کے کونے میں روزبروز اٹھتی عمارت کو منہدم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ ملت کو لکھنوی بھول بھلیوں کےاندر تو لے جاتے ہیں جو ایک دروازے سے دوسرے دروازے کا سفر طے کراتا رہے لیکن اس راستے کی طرف رہنمائی نہیں کرتے جو قلعے سے باہر نکالتاہو۔
چونکہ اس وقت ہندوستان میںاسلام کاروباریوں کے حصار میں ایسا گرفتار ہوگیا ہےکہ اقراری اور انکاری دونوں اس سے مستفید ہورہے ہیں۔
اقراری جبہ و دستار کے حصار میں استفادہ کررہا ہے جبکہ انکاری جبہ ودستار کے اشتراک سے استفادہ کررہا ہے ۔
پریشان تو وہ لوگ ہیں جو اسلام کے پرستار ہیں لہذا انہیں نہ انکاری پسند کررہے ہیں اور نہ ہی اقراری ۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ،آپ اقراری بننا چاہتے ہیں یا انکاریوں کےساتھ صف بستہ ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ فائدہ دونوں جانب ہے۔
لیکن اگر غلطی سے آپ پرستاران مصطفیﷺ ہیں تو یاد رکھیں موجودہ دور میں آپ کا شکوہ کرنا بھی اقراری و انکاریوں کو پریشان کرسکتا ہے۔کیونکہ ان کے پاس علامہ اقبال کا بہترین شعر ہے
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

Dailyhunt

مزید پڑھیں
News18 اردو

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول
  • 1hr
  • 0 views
  • 1 shares

دوحہ : قطر میں فیفا عرب کپ 2021 کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جبکہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کو صرف ایک سال کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے ۔ فیفا عرب کپ کے ایک میچ میں قطر نے بحرین کو ایک صفر سے ہرادیا جبکہ ایک دوسرے میچ میں تیونیسا نے موریطانیہ کو پانچ ایک سے شکست دی ۔ وہیں ایک دیگر مقابلہ میں عراق اور عمان کے درمیان میچ ایک ایک سے ڈرا پر ختم ہوا ۔

ٹورنامنٹ میں کتنی ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ۔

فیفا عرب کپ 2021 میں کل سولہ ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ، جن کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

گروپ اے : قطر ، عراق ، عمان ، بحرین

گروپ بی : تیونیسیا ، متحدہ عرب امارات ، شام ، موریطانیہ

گروپ سی : مراقش ، سعودی عربیہ ، جورڈن اور فلسطین

گروپ ڈی : الجیریا ، مصرف ، لبنان اور سوڈان



ٹورنامنٹ کا فارمیٹ کیا ہے ؟

ہر ایک ٹیم تین گروپ میچیز کھیلے گی اور ہر گروپ سے ٹاپ کی دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جائیں گی ۔ کوارٹر فائنل کے میچیز دس اور گیارہ دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کوارٹر فائنل کی چار فاتح ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی ، جہاں سے دو ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی ۔ سیمی فائنل کے میچیز 18 دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کن کن اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے میچیز

ٹورنامنٹ کے سبھی میچیز ملک کے چھ اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے ۔ ان میں سے چار اسٹیڈیمس ایسے ہیں ، جہاں پہلے بھی فٹ بال کے میچ کھیلے جاچکے ہیں ۔ راس ابو عبید اسٹیڈیم اور البیت اسٹیڈیم میں افتتاحی میچ کھیلے گئے ۔


قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection