Awaz The Voice
Awaz The Voice

جو 2019 ورلڈ کپ کے دوران ہوا وہ اب نہیں ہونا چاہیے: راشد خان

  • 86d
  • 0 views
  • 3 shares

جو 2019 ورلڈ کپ کے دوران ہوا وہ اب نہیں ہونا چاہیے: راشد خان

دبئی : افغانستان کے مایہ ناز لیگ سپنر راشد خان نے پاکستان اور افغانستان کے کرکٹ شائقین سے درخواست کی ہے کہ وہ جمعے کو ٹی20 ورلڈ کپ میں دونوں ممالک کے میچ کے دوران شائستگی کا مظاہرہ کریں۔ اس سے قبل انگلینڈ میں کھیلے گئے پاکستان اور افغانستان کے ورلڈ کپ میچ کے بعد پاکستانی اور افغان تماشائیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے کئی واقعات رونما ہوئے تھے۔ راشد خان 2019 میں ہیڈنگلے میں کھیلے گئے 50 اوور کے اُس ورلڈ کپ میچ کا حصہ تھے۔ اس میچ میں راشد خان کی ٹیم کو اگرچہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم میدان کے اندر اور میدان کے باہر ہونے والے تشدد کے واقعات میچ کے نتیجے پر چھائے رہے۔

اس دوران کھلاڑیوں کو سکیورٹی حصار میں گراؤنڈ سے باہر لے جایا گیا کیونکہ تماشائی حفاظتی جنگلے پار کر کے پچ تک جاپہنچے تھے۔ جمعے کے روز ہونے والا میچ بھی اعصاب شکن ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست ہیں اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے تگ و دو کررہی ہیں۔ ویک اینڈ کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستان اور افغانستان کے تارکین وطن تماشائیوں کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔

راشد خان نے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یقیناً پاکستان کے خلاف بہت اچھا میچ ہوتا ہے، لیکن اسے کھیل تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔'

'میں تمام تماشائیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ پرسکون رہیں اور کھیل سے لطف اندوز ہوں۔ جو کچھ 2019 کے میچ میں ہوا وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔'

راشد خان اور مجیب الرحمان کی عمدہ بولنگ کی بدولت افغانستان نے ٹی20 ورلڈ کے اپنے پہلے میچ میں سکاٹ لینڈ کو بآسانی 130 رنز کے بڑے ہدف سے ہرا دیا تھا۔ افغانستان کی ٹیم نے اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو 191 رنز کا بڑا ہدف دیا تھا جبکہ جواب میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم صرف 60 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ اس میچ میں راشد خان نے چار جبکہ ان کے ساتھی سپنر مجیب الرحمان نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

افغانستان کی ٹیم پابندی کے خطرے کے سائے میں یہ ٹورنامنٹ کھیلنے آئی ہے کیونکہ ان کے ملک میں طالبان نے خواتین کی کھیلوں پر سخت موقف اپنا رکھا ہے۔

#Tags ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ


Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

انتخابات کے وقت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کو رشوت قرار دیا جائے

انتخابات کے وقت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کو رشوت قرار دیا جائے
  • 59m
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی :کسی بھی انتخاب سے پہلے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے امیدواروں کے ذریعہ مفت تحائف کی تقسیم یا پھر تحائف کے لیے وعدہ کرنا عام بات ہے۔ لیکن ایک ایسی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے جس میں مفت تحائف کی تقسیم یا وعدہ کرنے پر سیاسی پارٹیوں کی مسئلہ حیثیت ختم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ درخواست گذار نے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں سرکاری فنڈ کا استعمال کر کے انتخاب سے قبل ووٹروں کو تحفے دیتے ہیں یا تحفہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کو متاثر کرتا ہے۔سپریم کورٹ میں درخواست گذار اشونی اپادھیائے نے عرضی داخل کر کے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فریق بنایا ہے اور عرضی میں کہا گیا ہے کہ عوامی فنڈ سے انتخاب سے قبل ووٹروں کو لبھانے کے لیے مفت تحائف دینے کا وعدہ کرنا یا مفت تحائف کی تقسیم مناسب نہیں۔ اس سے انتخابی عمل آلودہ ہو جاتا ہے۔ درخواست گذار نے یہ بھی کہا کہ اس سے انتخابی میدان میں یکساں مواقع کے اصول بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ مفت تحائف کی تقسیم یا تقسیم کرنے کا وعدہ ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش ہے اور یہ ایک طرح کی رشوت ہے۔ درخواست گذار نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کچھ مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں شرومنی اکالی دل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 18 سال سے اوپر کی خواتین کو 2000 روپے فی ماہ دے گی، وہیں عام آدمی پارٹی نے ایک ہزار روپے فی ماہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کانگریس نے خواتین کو 2000 روپے فی ماہ دینے کے ساتھ ساتھ سال میں 8 سلنڈر بھی گھریلو خواتین کو دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ 12ویں پاس لڑکی کو 20 ہزار روپے، 10ویں پاس لڑکی کو 10 ہزار روپے دیئے جائیں گے اور کالج جانے والی لڑکی کو اسکوٹی دی جائے گی۔ علاوہ ازیں یوپی میں کانگریس نے وعدہ کیا ہے کہ 12ویں میں پڑھنے والی لڑکیوں کو اسمارٹ فون اور کالج جانے والی لڑکیوں کو اسکوٹی دی جائے گی۔ سماجوادی پارٹی نے وعدہ کیا کہ خواتین کو 1500 روپے پنشن اور ہر خاندان کو 300 یونٹ ماہانہ بجلی مفت دی جائے گی۔ درخواست گذار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح سے کیے گئے مفت تحائف کے وعدے کو رشوت کے درجہ میں تصور کیا جائے کیونکہ اس سے ووٹر متاثر ہوتے ہیں۔ انتخابی کمیشن کو ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سیاسی پارٹیاں اس طرح کے مفت تحائف کے وعدے نہ کریں یا مفت تحائف تقسیم نہ کریں۔ درخواست گذار نے سپریم کورٹ سے گزارش کی ہے کہ مفت تحائف تقسیم کیے جانے کو شق۔14 کی خلاف ورزی مانا جائے۔ اسے رشوت قرار دیا جائے اور تعزیرات ہند کی دفعہ 171 بی اور سی کے تحت جرم مانا جائے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
سیاست
سیاست

مودی سرکار شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت میں ناکام

مودی سرکار شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت میں ناکام
  • 1hr
  • 0 views
  • 0 shares

نئی دہلی ۔ مودی سرکار اپنے شہریوں کے کورونا ڈیٹا کی حفاظت بھی نہ کر سکی اور ہزاروں ہندوستانی شہریوں کا ڈیٹا آن لائن لیک ہو گیا۔ ڈیٹا میں مریضوں کے کے نام، موبائل نمبر، پتے اور کورونا ٹسٹ کے نتیجے شامل ہیں۔لیک ہونے والے ڈیٹا کو ریڈ فورمز کی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے رکھا گیا ہے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection