Friday, 22 Jan, 3.03 am بصیرت آن لائن

اخبارجہاں
ہم نے کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا

چین نے اروناچل میں گاؤں بنانے کی خبروں کو بتایامعمول، کہا اپنے ہی علاقے میں ہوئی تعمیر
آن لائن نیوزڈیسک
جمعرات کو چین کی وزارت خارجہ نے یہاں کہا کہ چین کی ترقیاتی اور تعمیراتی سرگرمیاں اپنے ہی علاقے میں معمول کے مطابق ہیں اور الزام تراشی سے پرے ہیں۔ وزارت نے اروناچل پردیش میں ایک نئے چینی گاؤں کی خبر کے جواب میں یہ بات کہی۔ میڈیا بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئینگ نے کہاکہ جنگانان خطے (جنوبی تبت) کے بارے میں چین کا مؤقف واضح اور مستحکم ہے، ہم نے کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا۔چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ ہندوستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اروناچل اس کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہے۔ چونئنگ نے کہا کہ چین کی ترقیاتی اور تعمیراتی سرگرمیاںہمارے اپنے علاقے میں عام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ غلطی سے بالاتر ہے کیونکہ یہ ہمارا خطہ ہے۔
ایک نجی چینل کی ایک رپورٹ میں اروناچل پردیش کے علاقے کی تصاویر دکھائی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ چین نے نیا گاؤں بنایا ہے اور اس میں قریب 101 مکانات ہیں۔ چینل کے مطابق، 26 اگست 2019 کی پہلی تصویر میں کسی بھی انسانی بستی کو نہیں دکھایا گیا، لیکن نومبر 2020 میں دوسری تصویر میں رہائشی تعمیرات دیکھنے کو ملیں۔ ہندوستان نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور پیر کو کہا تھا کہ ملک سلامتی کو متاثر کرنے والی تمام سرگرمیوں پر مسلسل نگرانی کرتا ہے اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرتا ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Baseerat Online
Top