Thursday, 25 Feb, 2.03 am بصیرت آن لائن

ہندوستان
سنیکت کسان مورچہ نے صدرجمہوریہ کو لکھا خط ، کہا پولیس عام آدمی کیلئے کھولے راستہ

نئی دہلی،24 فروری (بی این ایس )
دہلی کی سرحد پر احتجاج کرنے والے سنیکت کسان موچہ کے کسانوں نے صدر کو ایک خط لکھ کر مرکزی حکومت کے منظور کردہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے خط میں کسان مورچہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کسان مظاہرے کے دوران جیلوں میں بند معصوم کسانوں کوکو غیر مشروط رہا کیا جائے۔ خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کسانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور ان کے خلاف جاری کردہ نوٹس کو منسوخ کیا جائے۔صدر کو لکھے گئے خط میں کسان مورچہ نے کہا ہے کہ پچھلے تین مہینوں سے کسان دہلی کے آس پاس غیر معینہ مدت تک کے لئے احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومت ہند اور متعدد ریاستی حکومتوں نے سینکڑوں کسانوں اور تحریک کے حامیوں کو جیلوں میں ڈال دیا ہے اور جھوٹے ہیں مقدمات لگائے گئے ہیں۔خط میں کسان مورچہ کی جانب سے متعدد نکات کی طرف توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کسان مورچہ نے لکھا کہ ہم ضلعی اور تحصیل افسران کے توسط سے آپ کو کچھ مطالبات بھیج رہے ہیں،ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس سلسلے میں فوری کارروائی کریں گے۔کسان مورچہ نے لکھاکہ جیلوں میں بند بے گناہ کسانوں کے خلاف پولیس مقدمات کو خارج کیا جانا چاہئے اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جانا چاہئے۔ کسانوں اور افراد اور ان کی جدوجہد کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے خلاف درج پولیس کے فرضی مقدمات کو خارج کیا جانا چاہئے۔اس کے علاوہ جدوجہد میں شامل کسانوں کو ڈرانے کے لئے دہلی پولیس، این آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے بھیجا گیا نوٹس فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے اور پہلے کا نوٹس منسوخ کیا جانا چاہئے۔دہلی کی سرحدوں پر کسان مورچہ کے گھیرائو کے نام پر عام آدمی کیلئے بند سڑکیں کھولی جائیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Baseerat Online
Top