از: افضل حسین القاسمی (خادم الإ فتاء صدیقیہ مسجد جوگیشوری ممبئی) احمدآباد کی عائشہ نامی مرحومہ بہن کا بطریقۂ خود کشی روح فرسا واقعہ ہو، یا اس جیسے دیگر پیش آمدہ ہیبت ناک واقعات۔ ہمیں بڑی ذمّہ داری کے ساتھ ان جیسے معاملات میں خصوصاً دو پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، پہلا پہلو! تو خود ناجائز عمل یعنی خود کشی کا ارتکاب ہے جو کہ عظیم جرم ہے، اس کی قباحت وشناعت لوگوں کے قلوب میں کیسے بسائی جائے، اور اخروی عذاب کی سنگینی سے انہیں کیسے ڈرایا جائے۔ دوسرا پہلو! ذرائعِ فسق یعنی خود کشی وغیرہ پر مجبور کرنے والے اسباب وعوامل کیا ہیں؟ اس پر قدغن کس طرح لگے، کہ لوگوں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔ تو اب مذکورہ دو پہلوؤں کی روشنی میں عائشہ بہن کی خود کشی کا جب ہم حالات کے تناظر میں کسی قدر تحقیقی وتفصیلی جائزہ لیتے ہیں، تو اکثریت کی تحریر و تقریر کا یک طرفہ ایسا جھکاؤ معلوم ہوتا ہے، کہ بس یوں لگنے لگتا ہے کہ بے چاری عائشہ کا کیا جرم وہ تو ذرائعِ فسق یعنی جہیزیوں کی خطا ہے، عائشہ کی ادھوری محبت کا احساس اس انداز میں پیش کیا جارہا ہے کہ گویا اس نے خود کشی کرکے کوئی جرم ہی نہ کیا ہو، اس کے حق میں جواز کی شکل پیدا ہوگئی ہو، اور بیان وتحریر کی رَو میں خود کشی کی سنگینی عائشہ مرحومہ کے حالات کے تئیں اس طرح مغلوب کردی جارہی ہے کہ جیسے خود کشی بہت ہی معمولی گناہ ہو۔ جب کہ ہونا کیا چاہیے؟ ہمیں خود کشی جیسے واقعات پر بغیر کسی تاویل کے ذرائعِ خود کشی کی مذمت کے ساتھ ساتھ خود کشی جیسے قبیح عمل کی بھی بھر پور قباحت وشناعت اس انداز میں اجاگر کرنی چاہیے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی سنگینی بیٹھ سکے اور عذابِ الٰہی سے خوف پیدا ہوسکے، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں!