Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
عاصم منیر کی طاقت بڑھتے ہی پاکستان کا بڑا قدم، 6 ماہ کے لئے راولپنڈی فوج کے حوالے، یہاں جانئے پوری تفصیل

عاصم منیر کی طاقت بڑھتے ہی پاکستان کا بڑا قدم، 6 ماہ کے لئے راولپنڈی فوج کے حوالے، یہاں جانئے پوری تفصیل

Bharat Express 5 hrs ago

پاکستان کے انتہائی حساس فوجی شہرراولپنڈی میں سیکورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے شہرمیں فوج کی تین اضافی کمپنیاں 6 ماہ کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹر(جی ایچ کیو) کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکورٹی خدشات بڑھنے کے درمیان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب پاکستان میں حالیہ فوجی قوانین میں ترمیم کے بعد فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے اختیارات اورکردارمیں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پنجاب حکومت کی درخواست پر فوج تعینات

پاکستانی حکومت نے راولپنڈی میں فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں 21 اگست 2026 کو سرکاری حکم جاری کیا گیا۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے راولپنڈی میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی کی درخواست کی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔ فوجی جوانوں کو حساس سیکورٹی ڈیوٹی پرتعینات کیا جائے گا۔ وہ کسی بھی غیرمتوقع سیکورٹی صورتحال سے نمٹنے میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کریں گے۔ حکم کے مطابق یہ تعیناتی فوری طورپرنافذ ہوگی اور6 ماہ تک جاری رہے گی۔

راولپنڈی انتظامیہ کے ساتھ کام کرے گی فوج

پاکستان کی وزارت داخلہ وانسدادِ منشیات نے فوج کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ حکم نامے کے مطابق فوجی اہلکارراولپنڈی انتظامیہ کے ماتحت سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اس فیصلے کی اطلاع پاکستان کے کئی اعلیٰ سرکاری اورفوجی حکام کوبھی دی گئی ہے، جن میں صدردفتر، وزیراعظم دفتر، کابینہ ڈویژن، پنجاب محکمہ داخلہ، پنجاب کے انسپکٹرجنرل پولیس اورراولپنڈی میں واقع فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر(جی ایچ کیو) شامل ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی

راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے۔ اس شق کے تحت وفاقی حکومت ضرورت پڑنے پرشہری انتظامیہ کی مدد کے لیے مسلح افواج کو تعینات کر سکتی ہے۔ راولپنڈی پاکستان کے فوجی ادارے کا اہم مرکز ہے۔ شہر میں پاکستانی فوج کا جی ایچ کیوموجود ہے اورکئی دیگرحساس فوجی تنصیبات بھی واقع ہیں، اس لیے یہاں اضافی فوجی تعیناتی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

جی ایچ کیوکے قریب فائرنگ کے بعد سیکورٹی سخت

فوج کی اضافی تعیناتی کا فیصلہ 11 اگست کو جی ایچ کیو کے قریب پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے چند روز بعد کیا گیا ہے۔ اس روز ایک مسلح شخص نے علاقے میں ایک فوجی گاڑی پر فائرنگ کی تھی، جس میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔ بعد میں سیکورٹی فورسیزنے حملہ آور کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد راولپنڈی میں حساس فوجی اور اہم اسٹریٹجک تنصیبات کی سکیورٹی مزید مضبوط کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

کیا عاصم منیرکے بڑھتے اختیارات کے درمیان اٹھایا گیا قدم؟

پاکستان کی قومی اسمبلی نے 'ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ 2026' اور 'نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010' میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد جنرل عاصم منیر کے کردار اور اختیارات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نئے قانونی انتظامات کے تحت پاکستان کی تینوں مسلح افواج اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں فوجی قیادت کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ جنرل عاصم منیر پہلے ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس حیثیت میں پاکستان کی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے انتظام اور کمان میں ان کا مرکزی کردار ہے۔ نئے قوانین کے ذریعے فوجی اختیارات کے مزید مرکزیت اختیار کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔

عاصم منیرکے ہاتھ میں اب کون سے اختیارات ہیں؟

نئے قانون کے تحت فوجی اہلکاروں کوملازمت سے برطرف کرنے، قبل ازوقت ریٹائرمنٹ اوراستعفیٰ منظوریا مسترد کرنے جیسے معاملات میں جنرل عاصم منیرکا کرداربڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی سروس کی مدت اورعمرکی حد سے متعلق تبدیلیوں کے اختیارات بھی نئے قانونی انتظامات میں شامل کئے گئے ہیں۔ اب جنرل عاصم منیر کوقومی سلامتی اوردفاعی امورمیں وزیراعظم کے اہم فوجی مشیرکا کرداربھی حاصل ہے۔ اس سے دفاع اورقومی سلامتی سے متعلق فیصلوں میں فوجی قیادت کی براہِ راست شمولیت مزید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں فوجی طاقت کا مزید ارتکاز

پاکستان کی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کمانڈر آف دی نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ (سی این ایس سی) کے نام سے ایک نیا چارستارہ عہدہ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ جنرل سید عامررضا کو اس عہدے پرمقررکیا گیا تھا۔ ڈیفنس قوانین اورنیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے ذریعہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اوراسٹریٹجک فوجی صلاحیتوں کے آپریشن سے متعلق نئے ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد جنرل عاصم منیرکا پاکستان کے فوجی اورقومی سلامتی سے متعلق معاملات میں کردارپہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بااثرہوگیا ہے۔ راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج کی اضافی تعیناتی کوبھی اسی وسیع ترسیکورٹی انتظامات کے تناظرمیں دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu