Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرارپروفیسرمہتاب عالم رضوی کی حمایت میں اتری ٹیم، 6 افراد کے خلاف ایف آئی آرکا مطالبہ، یہاں جانئے پورا معاملہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرارپروفیسرمہتاب عالم رضوی کی حمایت میں اتری ٹیم، 6 افراد کے خلاف ایف آئی آرکا مطالبہ، یہاں جانئے پورا معاملہ

Bharat Express 2 hrs ago

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینکڑوں تدریسی اورغیرتدریسی ملازمین نے جمعہ کے روزجامعہ نگرپولیس اسٹیشن میں ایک مشترکہ شکایت درج کراتے ہوئے جامعہ کے رجسٹرار پروفیسرایم مہتاب عالم رضوی کے خلاف مبینہ طورپرہتک آمیزاورمن گھڑت مواد پھیلانے کے الزام میں وشودلت پریشد (ورلڈ دلت کونسل) کے بین الاقوامی صدربھوپیندرپال سنگھ چمار، جامعہ اسکول کے استاد حارث الحق اورچاردیگرافراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈینز، شعبہ ہائے تعلیم کے سربراہان، مراکزکے ڈائریکٹرز، پروفیسرزاورانتظامی افسران سمیت یونیورسٹی کے ملازمین نے پہلے مشترکہ عرضداشت پردستخط کئے اوربعد ازاں شام کوجامعہ نگرپولیس اسٹیشن تک مارچ کیا۔ وفدنے متعلقہ دستاویزات کے ساتھ شکایت ایس ایچ اوکے حوالے کی اورقانون کے تحت فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

شکایت کے مطابق، نامزد افراد نے مبینہ طورپرڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، میسجنگ گروپس اورمختلف ویب پلیٹ فارمزکا استعمال کرتے ہوئے جھوٹے الزامات، مبینہ جعلی انتظامی سرکلرزاور یونیورسٹی کے معمول کے انتظامی فیصلوں کوتوڑمروڑکرپیش کرنے والا مواد نشرکیا۔ ملازمین کا الزام ہے کہ اس کا مقصد رجسٹرارکی ساکھ کونقصان پہنچانا اوریونیورسٹی انتظامیہ کو کمزورکرنا تھا۔ شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ حارث الحق ماضی میں مبینہ بدعنوانیِ نظم وضبط اورتعلیمی ماحول کومتاثرکرنے والی سرگرمیوں کے باعث معطلی سمیت تادیبی کارروائی کا سامنا کرچکے ہیں۔ شکایت میں بھوپیندرپال سنگھ چماراوردیگرنامزد افراد پرپروفیسرمہتاب عالم رضوی کے خلاف مبینہ آن لائن مہم چلانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم، یہ تمام الزامات مشترکہ شکایت میں عائد کئے گئے ہیں اوران کی ابھی تحقیقات ہونا باقی ہے۔

پروفیسرمہتاب عالم رضوی کی حمایت میں مہم

ملازمین کا کہنا ہے کہ مبینہ مہم رجسٹرارکی جانب سے یونیورسٹی کے قواعد وضوابط پرسختی سے عمل درآمد کے بعد شروع ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ مقررہ طریقۂ کارکونظراندازکرنے اور ناجائزفوائد حاصل کرنے کی کوششوں کوروکے جانے کے بعد پروفیسرمہتاب عالم رضوی کے خلاف مبینہ کردارکشی کی مہم شروع کی گئی۔ تقریباً ایک دہائی سے جامعہ سے وابستہ پروفیسر رضوی نیلسن منڈیلا سینٹرفارپیس اینڈ کنفلکٹ ریزولوشن کے ڈائریکٹرکے طورپربھی خدمات انجام دے چکے ہیں اورمنوہرپاریکرانسٹی ٹیوٹ فارڈیفنس اسٹڈیزاینڈ اینالیسزمیں اہم تحقیقی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ ملازمین کے مطابق، رجسٹرارکا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ادارہ جاتی دیانت داری، قواعد وضوابط کی پابندی، میرٹ پرمبنی انتظامیہ اورمالی جواب دہی پر خصوصی توجہ دی ہے۔

غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا

وفد نے شکایت کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی سرکلرز، مبینہ غیرمجازچندہ جمع کرنے سے متعلق ریکارڈ اورنامزد افراد کے خلاف سابقہ تادیبی احکامات سمیت مختلف دستاویزات بھی پیش کیں۔ مشترکہ شکایت میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، شہرت کونقصان پہنچانے کے مقصد سے جعل سازی اوردانستہ توہین سے متعلق متعلقہ فوجداری اورانفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے تحت ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ملازمین نے دہلی پولیس اورعدالتی نظام پراعتماد کا اظہارکرتے ہوئے پورے معاملے کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی اقدام رجسٹرارکے ساتھ ان کی یکجہتی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وقار، تعلیمی ہم آہنگی اورادارہ جاتی ساکھ کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu