Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
813 کروڑ روپئے گھوٹالے کے بیچ سپریم کورٹ نے جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ کو سارے مالی امور کی ذمہ داری سونپی، 199 ایم بی بی ایس اور پی جی نشستیں بحال

813 کروڑ روپئے گھوٹالے کے بیچ سپریم کورٹ نے جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ کو سارے مالی امور کی ذمہ داری سونپی، 199 ایم بی بی ایس اور پی جی نشستیں بحال

Bharat Express 6 days ago

نئی دہلی، 27 مئی: ایک اہم عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ (HIMSR) کا مالیاتی انتظام مؤثرطورپرایک فوجی افسرکی نگرانی میں رکھ دیا ہے۔ جسٹس بی۔ وی۔ ناگرتھنا اورجسٹس اُجّل بھویان کی بنچ نے بدھ کو متعدد ہدایات جاری کیں، جو بنیادی طورپرادارے کے رجسٹرارکرنل طاہرمصطفیٰ کی مداخلت پرمبنی تھیں۔ اس حکم سے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے 199 میڈیکل طلبہ کے داخلے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

آپریشن 'صفائی' : خاندانی جھگڑے کے خلاف کرنل کی جنگ
یہ حکم موجودہ بھارتی فوجی افسر کرنل طاہرمصطفیٰ کے لیے بڑی قانونی جیت ہے۔ انہیں جولائی 2025 میں ہمدرد خاندان کے اندر جاری تلخ جانشینی کے تنازع کے درمیان جامعہ ہمدرد کا رجسٹرارمقررکیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، کرنل طاہراس سے پہلے سینٹر فارآٹومیٹڈ ملٹری سروے (CAMS) کے ڈائریکٹر اور وزارت خارجہ میں سرحدی سیل کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے ایک غیرجانبدارنگرانی کا نظام قائم کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

مختلف قانونی ذرائع سے ہونے والی گفتگو سے یہ واضح ہوا کہ دو ٹرسٹی گروپوں کے درمیان "طویل عرصے سے جاری رسہ کشی" کی وجہ سے یہ ادارہ مالی ہیرا پھیری کا میدان بن چکا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ "نجی لوگ اکاؤنٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے" اور یونیورسٹی کا "کردار اور طریقہ کار تعلیمی معیارات کو تباہ کرنے والا" ہو چکا تھا۔

چدمبرم نے سی اے جی رپورٹ اٹھائی، سپریم کورٹ نےاز خود نوٹس لیا
سماعت کے دوران سینئر ایڈووکیٹ اور سابق مرکزی وزیر پی. چدمبرم نے، جو جواب دہندگان کی طرف سے پیش ہوئے تھے، نے تعمیل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ بغیر کسی کام یاب مالیاتی کمیٹی یا ایگزیکٹو کمیٹی کے، مکمل طور پر عارضی طریقے سے چل رہا تھا۔ معاملے سے جڑے چند ذرایع نے بھارت ایکسپریس کو بتایا، "مسٹر چدمبرم نے کہا کہ اگر کل ای ڈی یا سی بی آئی کی چھاپہ ماری ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری رجسٹرارپرآئے گی۔"

انہوں نے قانونی اداروں کی عدم موجودگی کی طرف توجہ دلائی اور ایک سی اے جی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں 2011 سے 2023 کے درمیان 813 کروڑ روپیے کی چونکا دینے والی رقم کے غبن کا الزام لگایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ان دلائل کا نوٹس لیا۔ بنچ نے کہا کہ اس معاملے کے "انوکھے حقائق" - خاص طور پر خاندان کی دو شاخوں کے درمیان ثالثی (اربٹریشن) کا تنازع - کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار، اعلیٰ سطحی سرکاری افسر کی موجودگی ضروری تھی۔

'موافقت کی رضامندی' اور رجسٹرار کا اختیار
اگرچہ درخواست گزاروں (اسد معید و دیگر) نے یونیورسٹی کو باضابطہ 'رضامندی نامہ' جاری کرنے کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن عدالت نے ان التماسوں سے آگے بڑھتے ہوئے کرنل طاہر مصطفیٰ کو حقیقی مالیاتی کنٹرولر (ڈی فیکٹو فنانشل کنٹرولر) مقرر کر دیا۔

عدالت نے حکم میں کہا، "اپنے گذشتہ تاریخ 11.02.2026 کے حکم کی تعمیل میں ہم یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس خصوصی اجازت درخواست (ایس ایل پی) کے نتائج کے ماتحت رہتے ہوئے، تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے موافقت کی رضامندی (کنسنٹ آف افیلی ایشن) پہلے جواب دہندہ یونیورسٹی کی طرف سے تیسرے درخواست گزار ادارے کے حق میں فراہم کردہ تصور کی جائے گی۔"

مالی بحران اور شفافیت کا راستہ
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے ہدایت دی کہ 150 ایم بی بی ایس اور 49 پوسٹ گریجویٹ نشستوں کے لیے تمام فیس کی ادائیگی رجسٹرار کو جمع کرائی جائے۔ درخواست گزار کالج کو علیحدہ حساب کتاب رکھنے اور فیس اور ادائیگیوں کی تفصیل کرنل مصطفیٰ کے دفترمیں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس معاملے سے جڑے ایک قانونی ماہر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، "اب سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو براہِ راست نگرانی میں رکھا ہے۔ نہ تو HIMSR انتظامیہ اور نہ ہی یونیورسٹی ان پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ سارے اکاؤنٹس ایک غیرجانبدار فوجی افسرکے پاس جائیں گے۔"

نیٹ پر مبنی داخلہ عمل بحال
اس عبوری حکم کے ساتھ قومی طبی کمیشن (NMC) کو HIMSR کے لیے یو جی پورٹل تک رسائی بحال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ حکم یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی من مانی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے، نیٹ رینکنگ کی بنیاد پر ہی داخلہ عمل کو تسلیم کرتا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ ایس ایل پی کے زیر التوا رہنے سے ہائی کورٹ کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے سے کوئی روک نہیں ہوگی، لیکن طلبہ کے فوری مفاد - جو خاندانی لڑائی کی نذرہوگئے تھے - کے لیے فوجی افسرکو'غیرجانبدارمبصر' کا درجہ دینا ضروری تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu