نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی 8 سے 11 جولائی کے درمیان انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے تین ملکی دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کا مقصد ہند-بحرالکاہل خطے میں بھارت کی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا، سمندری تعاون کو فروغ دینا اور 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' کو نئی رفتار دینا ہے۔
انڈونیشیا میں دوطرفہ تعلقات اور سمندری تعاون پر توجہ
وزارت خارجہ کے سکریٹری (مشرق) رودرندر ٹنڈن نے خصوصی پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم مودی 8 اور 9 جولائی کو انڈونیشیا کے دورے پر ہوں گے، جہاں وہ دارالحکومت جکارتہ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم پرامبانان مندر کمپلیکس کا بھی دورہ کریں گے، جہاں بھارت، انڈونیشیا کے ساتھ مل کر اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے منصوبے میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں وزیراعظم مودی کے دورۂ انڈونیشیا کے دوران قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری اب بھارت کی 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' اور 'مہاساگر وژن' کا اہم ستون بن چکی ہے۔ دونوں رہنما سمندری تعاون، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کا جائزہ لیں گے۔
آسٹریلیا میں تیسرا بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس
وزیراعظم مودی 10 جولائی کو میلبورن میں منعقد ہونے والے تیسرے بھارت۔آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں سائبر سکیورٹی، سپلائی چین کی مضبوطی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ دورہ: 40 برس بعد کسی بھارتی وزیراعظم کی آمد
تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم مودی 11 جولائی کو نیوزی لینڈ پہنچیں گے، جہاں وہ وزیراعظم کرسٹوفر لکسن سے ملاقات کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ دورہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 40 برس بعد کوئی بھارتی وزیراعظم نیوزی لینڈ کا سرکاری دورہ کرے گا۔ رودرندر ٹنڈن نے کہا کہ 2025 میں وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے بھارت کے دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرم جوشی آئی ہے اور اس دورے سے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وزیراعظم مودی کے ماریشس اور سیشلز کے دوروں اور جاپان کی وزیراعظم سنائے تاکائیچی کے حالیہ دورۂ بھارت کے بعد اب بھارت کی توجہ بحرِ ہند کے مشرقی خطے اور 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' کے تحت مشرقی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

