نئی دہلی : کینیا میں اڈانی انرجی کے 117 ارب کینیائی شلنگ (کے ای ایس) مالیت کے پاور ٹرانسمیشن منصوبے کو حال ہی میں ملنے والی منظوری کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف کینیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے کینیا کی اقتصادی سفارت کاری میں آنے والی تبدیلی بھی نمایاں ہوتی ہے، جہاں بھارت ایک قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایشیا کے نمایاں عالمی سرمایہ کاروں میں شمار ہونے والے اڈانی گروپ کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی علامت بھی ہے۔تجزیے کے مطابق بھارت کے لیے کینیا محض ایک تجارتی منڈی نہیں بلکہ مشرقی افریقہ کا اہم داخلی دروازہ اور بحرِ ہند کے خطے میں ایک اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔
نئی دہلی کی خارجہ اور اقتصادی پالیسی میں افریقہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور کینیا اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھارت کے اس وسیع وژن سے مطابقت رکھتی ہے، جس کا مقصد افریقی ممالک کے ساتھ رابطوں، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔پاور ٹرانسمیشن منصوبہ بھارت کی اس پالیسی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری، صلاحیت سازی اور پائیدار ترقی پر زور دیتا ہے۔ بھارت خود کو ایسے ترقیاتی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے جو صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔بھارت اور کینیا کے تعلقات کی بنیاد صرف اقتصادی مفادات پر نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور سماجی روابط پر بھی قائم ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے تجارت، عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کینیا میں بھارتی نژاد برادری ایک صدی سے زائد عرصے سے تجارت، صنعت اور خدمات کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم حصہ ڈالا ہے۔ماہرین کے مطابق اڈانی انرجی کا یہ منصوبہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، بنیادی ڈھانچے، تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ منصوبہ بھارت کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر و رسوخ اور کینیا کی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان مضبوط شراکت داری کی علامت بھی بن کر ابھر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ مضبوط دور میں داخل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو

