Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Adani says US legal issues behind it: امریکی قانونی معاملات اب ماضی کا حصہ، اب اے آئی سے جڑی انفراسٹرکچر مانگ پر بڑا داؤ لگانے پر فوکس: گوتم اڈانی

Adani says US legal issues behind it: امریکی قانونی معاملات اب ماضی کا حصہ، اب اے آئی سے جڑی انفراسٹرکچر مانگ پر بڑا داؤ لگانے پر فوکس: گوتم اڈانی

Bharat Express 2 weeks ago

نئی دہلی: ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی نے کہا ہے کہ اڈانی گروپ نے امریکہ میں درپیش قانونی چیلنجز کے مرحلے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب وہ توانائی، نقل و حمل، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار تیز کر رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والی نئی طلب سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اپنے سالانہ خط میں گوتم اڈانی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شدید جانچ پڑتال اور تنازعات کے باوجود گروپ نے اپنی توسیعی حکمت عملی جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جاری قانونی معاملات اب 'پیچھے رہ گئے ہیں'، جس سے گروپ کو اپنی اگلی ترقیاتی منزل پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملا ہے۔

اڈانی نے فلیگ شپ فرم اڈانی انٹرپرائزز کے 24,930 کروڑ روپے کے رائٹس ایشو کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی جب گروپ کو کارپوریٹ گورننس اور ریگولیٹری امور کے حوالے سے سوالات کا سامنا تھا۔

گوتم اڈانی نے کہا، ''دنیا زیادہ تقسیم شدہ اور پیچیدہ ہوتی گئی، توانائی کی سلامتی دوبارہ قومی حکمت عملی کا مرکزی موضوع بن گئی اور ٹیکنالوجی خودمختاری سے جڑ گئی، لیکن اڈانی گروپ اپنے اس یقین پر قائم رہا کہ بھارت کا مستقبل انتظار نہیں کر سکتا۔'' انہوں نے مزید کہا کہ جب دوسرے لوگ بحث و مباحثے میں مصروف تھے، اڈانی گروپ توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، یوٹیلیٹیز اور صنعتی پیداوار کے شعبوں میں دنیا کا سب سے مربوط انفراسٹرکچر پلیٹ فارم بنانے میں مصروف رہا۔

امریکی قانونی تنازعات پر موقف

اڈانی نے کہا کہ یہ ترقی انتہائی سخت حالات اور غیر معمولی جانچ پڑتال کے دوران حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا، ''ہم نہ جھکے اور نہ رکے۔ ہماری شناخت شور و غوغا سے نہیں بلکہ ہمارے ردعمل کی طاقت سے ہوتی ہے۔'' اڈانی گروپ کو 2024 کے آخر سے امریکی حکام کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کے کاروبار سے متعلق مبینہ رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا رہا، جنہیں گروپ مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ گوتم اڈانی نے کہا، ''امریکہ میں قانونی کارروائیوں سے متعلق معاملات اب ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں، جس سے ہمیں اپنی اگلی ترقیاتی حکمت عملی پر نئے اعتماد کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔''

اے آئی اور انفراسٹرکچر کا نیا دور

اڈانی نے اپنی مستقبل کی حکمت عملی کو دو اہم ستونوں یعنی 'انفراسٹرکچر' اور 'انٹیلی جنس' پر مبنی قرار دیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے لیے بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن نیٹ ورک، ڈیٹا سینٹرز اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا، ''اے آئی کے سوچنے سے پہلے توانائی کا بہاؤ ضروری ہے۔''

ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری

اڈانی گروپ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران گروپ نے 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جو اس کے سب سے بڑے سالانہ سرمایہ جاتی اخراجات میں شامل ہے۔ یہ سرمایہ کاری قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی ترسیل، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ڈیٹا سینٹرز اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں کی گئی۔

توانائی اور گرین ہائیڈروجن میں پیش رفت

اڈانی گرین انرجی نے سال کے دوران 5.1 گیگاواٹ نئی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت شامل کی، جس کے بعد اس کی مجموعی آپریشنل صلاحیت 19 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح اڈانی نیو انڈسٹری نے 5 میگاواٹ کے گرین ہائیڈروجن پائلٹ منصوبے کو فعال کیا۔

بجلی، ڈیٹا سینٹرز اور ہوائی اڈوں پر توجہ

اڈانی انرجی سلوشنز کی ٹرانسمیشن آرڈر بک 71,779 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اڈانی پاور 2032 تک اپنی پیداواری صلاحیت 42 گیگاواٹ تک بڑھانے کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے توسیعی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ گروپ نے 2030 تک 2 گیگاواٹ صلاحیت کے ڈیٹا سینٹر پلیٹ فارم کی تعمیر کا منصوبہ بھی پیش کیا اور Google کے ساتھ وشاکھاپٹنم میں بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔

بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں میں ریکارڈ کارکردگی

اڈانی پورٹس اور اسپیشل اکنامک زون نے سال کے دوران 500 ملین ٹن سے زائد کارگو ہینڈل کیا۔ دوسری جانب گروپ کے ایئرپورٹ کاروبار نے نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور گوہاٹی ایئرپورٹ کے نئے ٹرمینل کو فعال کیا۔ مالی سال 2025-26 میں اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں کی مشترکہ آمدنی 2.92 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں ٹیکس کے بعد منافع 13.9 فیصد اضافے کے ساتھ 46,377 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج

گوتم اڈانی نے کہا کہ اب گروپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کو اتنی تیزی سے مکمل کرنا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی اور انفراسٹرکچر ضروریات کو پورا کر سکے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے فروغ کے ساتھ بجلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے، اور اڈانی گروپ اسی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu