نئی دہلی: ملک بھر میں جمعرات کے روز عید الاضحیٰ مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ صبح سے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ مساجد اور عیدگاہوں میں جمع ہوئے اور خصوصی نماز ادا کی۔ لوگ روایتی لباس پہن کر نماز میں شریک ہوئے اور اپنے اہل خانہ، دوستوں اور پڑوسیوں کو عید کی مبارکباد پیش کی۔
بھائی چارے اور قربانی کا پیغام
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تہوار بھائی چارے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کا پیغام دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ انسان کو رحم دلی، قربانی اور خیرات کی اہمیت بھی یاد دلاتا ہے۔ کئی شہروں میں تہوار کو پُرامن طریقے سے منانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جامع مسجد کے اطراف سخت سکیورٹی
قومی راجدھانی دہلی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر تاریخی جامع مسجد کے اطراف دہلی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسجد میں داخل ہونے والے تمام افراد کی مکمل تلاشی کے بعد ہی انہیں اندر جانے کی اجازت دی گئی تاکہ حفاظتی انتظامات برقرار رہیں۔
عیدالاضحیٰ کی مذہبی اہمیت
عیدالاضحیٰ، جسے بھارت میں بکراعید کے نام سے جانا جاتا ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بے حد مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تہوار حضرت ابراہیمؑ کی اس عظیم قربانی اور اطاعت کی یاد دلاتا ہے جب وہ اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے اسماعیلؑ کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ یہ موقع غیر متزلزل ایمان، اللہ کے احکام کی پیروی، شکرگزاری، رحم دلی، معافی، قربانی اور سخاوت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کچھ ریاستوں میں کل منائی گئی عید
اگرچہ بھارت کے بیشتر حصوں میں بکراعید جمعرات کے روز منائی جا رہی ہے، تاہم جموں و کشمیر سمیت بعض علاقوں میں یہ تہوار بدھ کے روز منایا گیا۔ عیدالاضحیٰ کی تاریخ چاند نظر آنے پر منحصر ہوتی ہے۔ اس سال بھارت کے کئی علاقوں میں مذہبی اداروں نے بتایا کہ ذوالحجہ کا چاند مقررہ وقت پر نظر نہیں آیا، جس کے باعث اسلامی مہینے کی شروعات ایک دن بعد ہوئی اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں بکراعید 28 مئی کو منائی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔

