نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ 13 برسوں کے دوران ریاستی سیاست میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2013 میں بی جے پی کے کل 773 اراکین اسمبلی تھے، جو مئی 2026 تک بڑھ کر 1806 ہو گئے ہیں۔ اس نمایاں اضافے کو پارٹی کی مضبوط تنظیمی حکمت عملی، قیادت پر مبنی مہم اور مختلف ریاستوں میں بڑھتے اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی نے نہ صرف اپنے روایتی مضبوط گڑھوں کو مزید مستحکم کیا ہے بلکہ ان علاقوں میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے جہاں پہلے اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ مغربی بنگال اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں 2013 میں بی جے پی کا ایک بھی رکن اسمبلی نہیں تھا، لیکن 2026 کے انتخابات کے بعد پارٹی نے 207 نشستیں حاصل کر کے پہلی بار حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اسی طرح کیرلم میں بھی پارٹی نے صفر سے بڑھ کر تین نشستیں حاصل کی ہیں۔
شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔ ہندی پٹی میں بی جے پی کی مضبوطی مزید مستحکم ہوئی ہے۔ اتر پردیش جیسے اہم اور بڑے صوبے میں پارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد 47 سے بڑھ کر 257 ہو گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں یہ تعداد 143 سے بڑھ کر 165 تک پہنچ گئی، جبکہ گجرات میں 115 سے بڑھ کر 161 ہو گئی ہے۔ مہاراشٹر میں بھی بی جے پی نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی نشستوں کی تعداد 46 سے بڑھا کر 131 کر لی ہے، جو مغربی بھارت میں اس کے بڑھتے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔
شمال مشرقی خطے میں بی جے پی کی حکمت عملی نے خاص نتائج دیے ہیں۔ اروناچل پردیش میں پارٹی کی نشستیں 3 سے بڑھ کر 46 ہو گئی ہیں، جبکہ آسام میں یہ تعداد 5 سے بڑھ کر 82 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ تریپورہ اور ناگالینڈ میں بھی پارٹی نے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جو اس خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی سیاسی گرفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اڈیشہ میں بھی بی جے پی نے بڑی چھلانگ لگاتے ہوئے اپنی نشستوں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 79 کر لی ہے۔ ہریانہ میں پارٹی کی موجودگی 4 سے بڑھ کر 48 ہو گئی، جبکہ دہلی میں 23 سے بڑھ کر 48 نشستیں ہو گئی ہیں۔ کرناٹک میں بھی پارٹی نے اپنی پوزیشن بہتر بناتے ہوئے 40 سے 64 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اگرچہ بہار اور ہماچل پردیش جیسے کچھ ریاستوں میں معمولی کمی یا محدود اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر پارٹی کی ترقی کا رجحان واضح ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی اس تیز رفتار ترقی کے پیچھے مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، موثر انتخابی حکمت عملی اور قیادت پر مرکوز مہمات اہم عوامل ہیں۔ پارٹی نے مختلف سماجی و سیاسی ماحول میں خود کو ڈھال کر اپنی رسائی کو وسیع کیا ہے، جس کا نتیجہ آج سامنے آ رہا ہے۔ پارٹی کی قانون ساز سطح پر بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔ مغربی بنگال میں حالیہ کامیابی کے بعد بی جے پی کے 17 ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ ہونے کی توقع ہے، جبکہ مزید پانچ ریاستوں میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومتیں قائم ہیں۔ اس طرح ملک کی 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے 22 میں بی جے پی یا اس کے اتحادی اقتدار میں ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بی جے پی نے گزشتہ ایک دہائی میں خود کو ایک مضبوط قومی سیاسی قوت کے طور پر منوایا ہے، اور آنے والے برسوں میں بھی اس کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

