کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیے ایک سال گزر چکا ہے، لیکن اس کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز نے نہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کی اور نہ ہی ریاستی حکومتوں یا ماہرین سے کوئی بامعنی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری 2027 کے دوسرے مرحلے میں ذاتوں کی گنتی شامل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس عمل کے طریقہ کار، دائرہ کار اور نفاذ کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
مودی حکومت پر یوٹرن کا الزام
کانگریس رہنما نے نریندر مودی کی حکومت پر اس معاملے میں ''ڈرامائی یوٹرن'' لینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت نے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی مخالفت کی، لیکن بعد میں اسے قبول کر لیا۔ جے رام رمیش نے پرانے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2021 میں حکومت نے عدالت میں حلف نامہ دے کر ذاتی مردم شماری کی مخالفت کی تھی۔ بعد میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیراعظم کو خط لکھ کر اس کا مطالبہ کیا، لیکن اس پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں ذاتی مردم شماری کے مطالبے کو ''اربن نکسل'' سوچ قرار دیا تھا، جس پر اب انہیں کانگریس سے معافی مانگنی چاہیے۔
مشاورت کے فقدان پر تنقید
جے رام رمیش نے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود اس اہم معاملے پر نہ تو اپوزیشن سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی ریاستی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ ایک ایسا حساس اور وسیع معاملہ ہے جس میں تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری نہ صرف سماجی انصاف بلکہ پالیسی سازی کے لیے بھی اہم ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ شفاف طریقہ کار اپنائے اور سب کو ساتھ لے کر چلے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مردم شماری کب اور کس طرح مکمل ہوگی، اور اس میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

