کولکاتا/نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خود مغربی بنگال کے مبصر کے طور پر جمعرات کی شام کولکاتا پہنچ رہے ہیں۔ اس دوران وہ بی جے پی کے نومنتخب اراکین اسمبلی سے ملاقات کریں گے اور وزیراعلیٰ کے نام پر غور و خوض کے بعد اعلان کر سکتے ہیں۔ ریاست میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کئی لیڈروں کے نام سامنے آ رہے ہیں، جن میں سوویندو ادھیکاری سب سے آگے بتائے جا رہے ہیں، جنہوں نے ممتا بنرجی کو شکست دے کر سیاسی حلقوں میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔
وزیراعلیٰ کے لیے کیا ہوگا معیار؟
وزیراعظم مودی نے ماں، ماٹی اور مانش پر بہت زور دیا ہے اس لحاظ سے دیکھیں تو وزیراعلیٰ کا چہرہ کوئی ایسا شخص ہوگا جو بنگال اور اس کی زمین سے جڑا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ امت شاہ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو وزیراعلیٰ ایسا شخص ہوگا جو بنگال میں پیدا ہوا ہو، وہیں تعلیم حاصل کی ہو، بنگالی زبان بولتا ہو اور پارٹی کا وفادار کارکن ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بنگال کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ریاست کا اگلا وزیر اعلیٰ مقامی ہوگا اور بنگالی شناخت سے جڑا ہوگا۔ اسی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قیادت کا انتخاب کیا جائے گا۔
سوویندو ادھیکاری سب سے مضبوط دعویدار
سیاسی حلقوں میں سوویندو ادھیکاری کا نام سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ انہوں نے نہ صرف نندی گرام سے کامیابی حاصل کی بلکہ بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی کو 15 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ ادھیکاری انتظامی تجربہ رکھتے ہیں، ریاست کے حالات سے بخوبی واقف ہیں اور جارحانہ سیاست کے ساتھ مضبوط حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ امت شاہ کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی دوڑ میں سمیک بھٹاچاریہ، دلیپ گھوش، سکانتا مجمدار اور اگنی مترا پال جیسے اہم نام بھی شامل ہیں۔ سمیک بھٹاچاریہ کو پارٹی کا فکری چہرہ مانا جاتا ہے اور وہ مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دلیپ گھوش کو زمینی سطح کا مضبوط لیڈر سمجھا جاتا ہے، جبکہ سکانتا مجمدار تنظیمی صلاحیتوں اور شائستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اگنی مترا پال خواتین کی نمائندگی کے طور پر ایک اہم چہرہ بن کر ابھری ہیں۔ اس کے علاوہ اتپل مہاراج کا نام بھی زیر گردش ہے، جنہیں بعض حلقوں میں ''بنگال کا یوگی'' کہا جاتا ہے اور وہ ہندو ووٹوں کو یکجا کرنے میں مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔
کیا بی جے پی چونکا دینے والا فیصلہ کرے گی؟
اگرچہ سوویندو ادھیکاری کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتی ہے جو سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ امت شاہ کی ترجیح ایسے لیڈر کا انتخاب ہے جو مضبوط انتظامیہ چلا سکے، سرحدی دراندازی پر قابو پائے اور ''سونار بنگلہ'' کے وژن کو عملی شکل دے سکے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کے بعد سب کی نظریں 8 مئی کو ہونے والی بی جے پی لیجسلیٹو پارٹی میٹنگ پر مرکوز ہیں، جہاں نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا حتمی اعلان متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

