Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Congress Leader Rahul Gandhi Attack On BJP: بی جے پی کا ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ "ووٹ چوری" سے جیتا، کیا انہیں "گھسپیٹھیا" کہا جائے: راہل گاندھی

Congress Leader Rahul Gandhi Attack On BJP: بی جے پی کا ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ "ووٹ چوری" سے جیتا، کیا انہیں "گھسپیٹھیا" کہا جائے: راہل گاندھی

Bharat Express 2 weeks ago

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کا ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ مبینہ طور پر ووٹوں کی چوری کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے نہ صرف انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے بلکہ ہریانہ کی موجودہ حکومت کو بھی "گھسپیٹھیا" قرار دے دیا، جس سے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ترنمول کانگریس، جو پچھلے کئی برسوں سے ریاست میں برسر اقتدار تھی، اس بار اقتدار سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کے بجائے ووٹوں کی چوری کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگال میں انتخابی عمل شفاف نہیں رہا۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "ووٹ چوری کے ذریعے کبھی نشستیں چھینی جاتی ہیں اور کبھی پوری حکومت بنا لی جاتی ہے۔ لوک سبھا میں بی جے پی کے 240 اراکین میں سے تقریباً ہر چھٹا رکن ووٹ چوری کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔ انہیں پہچاننا مشکل نہیں، کیا بی جے پی کی اپنی اصطلاح میں انہیں "گھسپیٹھیا" کہا جانا چاہیے؟ اور ہریانہ میں تو پوری حکومت ہی گھسپیٹھیوں پر مشتمل ہے"۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی سرکاری اداروں کو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے اور انتخابی عمل کو اپنے مفاد کے مطابق متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹوں میں رد و بدل اور انتخابی طریقہ کار میں مداخلت کے ذریعے نتائج کو متاثر کیا جاتا ہے، جس سے جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار ہوں تو بی جے پی 140 نشستوں کے قریب بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اصل خوف سچائی اور آزادانہ انتخابات سے ہے، اسی لیے وہ اداروں کو اپنے اثر میں رکھ کر انتخابی عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔

اس سے قبل بھی راہل گاندھی نے آسام اور مغربی بنگال کے انتخابات کے حوالے سے اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان ریاستوں میں عوامی مینڈیٹ کی "لوٹ" دراصل بھارتی جمہوریت کو کمزور کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ چھوٹی سیاسی لڑائیوں سے اوپر اٹھ کر جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں 100 سے زائد نشستوں پر "لوٹ" کی گئی ہے اور بی جے پی نے دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غیر جانبدار نہیں رہا اور اس نے بی جے پی کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی کی 293 نشستوں کے نتائج میں بی جے پی نے 207 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ کل نشستوں کی تعداد 294 ہے۔ ایک نشست پر دوبارہ ووٹنگ ہونا باقی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں 200 سے زائد نشستیں جیتنے والی ترنمول کانگریس اس بار محض 80 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے، جو اس کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی اس بڑی کامیابی کے بعد پارٹی کارکنان میں جشن کا ماحول ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں نتائج پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راہل گاندھی کے حالیہ بیانات سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بیان بازی اور ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی شفافیت اور جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات ملک کی سیاست کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔ اگر ان خدشات کو دور نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جس کے اثرات مستقبل کے انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu