بھارت اپنی تیزی سے ابھرتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے تیار ہے، اور اسی سلسلے میں اگلے ماہ فرانس کے شہر نیس میں ایک شاندار 'ڈیپ ٹیکنالوجی' نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی پروگرام کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مشترکہ طور پر کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کی نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس نمائش کے حوالے سے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ آئی آئی ٹی مدراس ٹیک سمٹ کے دوران معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف بھارت کی تکنیکی ترقی کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے وژن کی بدولت ملک میں تحقیق اور جدت طرازی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اور تعلیمی ادارے اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیس میں ہونے والی اس نمائش میں بھارت اپنی ڈیجیٹل طاقت کے ساتھ ساتھ دفاع، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں اپنی پیش رفت کو بھی اجاگر کرے گا۔ اس سے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کو بھارت کی صلاحیتوں کا قریب سے جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔ تقریب کے دوران مرکزی وزیر مملکت جینت چودھری نے کہا کہ بھارت اب پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا کامیابی سے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب اب صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کے مثبت اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں ایک عام دیہی خاتون بھی یو پی آئی کے ذریعے آسانی سے مالی لین دین کر رہی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ترقی اور مستقبل کی سیاست کو ترجیح دی ہے، جو ملک میں بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اب عوام ایسی قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں جو معاشی استحکام اور ترقی کو یقینی بنا سکے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ تحقیق اور جدت کے میدان میں مضبوط بنیاد فراہم کر کے نوجوانوں کو ملک کے اندر ہی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جس سے 'آتم نربھر بھارت' کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ بھارت اور فرانس کے درمیان 'ڈیپ ٹیک' کے شعبے میں یہ شراکت داری مستقبل میں عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نمائش سے بھارتی اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کا سنہری موقع ملے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا بلکہ بھارت کو ایک عالمی ٹیکنالوجی رہنما کے طور پر بھی مستحکم کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

