Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
Dehydration And Heat Stroke Cases In Summer: 'گرمی میں ڈی ہائیڈریشن سب سے بڑا خطرہ، احتیاط بے حد ضروری'، ایمس کے ڈاکٹر کی وارننگ

Dehydration And Heat Stroke Cases In Summer: 'گرمی میں ڈی ہائیڈریشن سب سے بڑا خطرہ، احتیاط بے حد ضروری'، ایمس کے ڈاکٹر کی وارننگ

Bharat Express 2 hrs ago

نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی اور لو کے بڑھتے ہوئے اثرات نے عوامی صحت کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ کئی ریاستوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد اسپتالوں میں گرمی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی درمیان آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) دہلی کے شعبۂ طب کے پروفیسر ڈاکٹر نیرج نشچل نے گرمی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں اہم معلومات دی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گرمی کے موسم میں "ڈی ہائیڈریشن" یعنی جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی سب سے عام اور خطرناک مسئلہ بن رہی ہے۔

ڈاکٹر نیرج نشچل نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شدید گرمی میں سب سے پہلے جسم پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر اس صورتحال پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ "ہیٹ اسٹروک" یا لو لگنے جیسی سنگین حالت میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہیٹ اسٹروک کے دوران جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے پر جان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ دوپہر 11 بجے سے شام 4 یا 5 بجے تک، جب گرمی اپنی شدت پر ہوتی ہے، غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر کسی ضروری کام کے لیے باہر جانا پڑے تو ڈھیلے، ہلکے اور پورے بازو والے کپڑے پہننے چاہئیں۔ اس کے ساتھ سر کو ٹوپی، گمچھے یا پگڑی سے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے تاکہ دھوپ کا براہِ راست اثر جسم پر نہ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھتری کا استعمال یا زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رہنا سب سے بہتر احتیاط ہے۔

ڈاکٹر نیرج نشچل نے کہا کہ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے کم از کم ایک سے دو لیٹر پانی ضرور پینا چاہیے۔ اس کے علاوہ دن بھر الیکٹرولائٹس یا او آر ایس کا استعمال کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سادہ پانی پینا کافی نہیں کیونکہ پسینے کے ساتھ جسم سے نمک اور ضروری معدنیات بھی خارج ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ او آر ایس محلول اور الیکٹرولائٹ مشروبات جسم کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیل کا شربت، شکنجی، دال کا پانی اور دیگر روایتی مشروبات گرمی کے موسم میں نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف جسم کو ہائیڈریٹ رکھتے ہیں بلکہ معدے کو ٹھنڈک بھی پہنچاتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق موجودہ وقت میں اسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں کمزوری، چکر آنا، شدید پسینہ، سر درد، الٹی اور بلڈ پریشر کم ہونے جیسی شکایات عام ہو گئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شدید صورتوں میں ہیٹ اسٹروک کے باعث تیز بخار، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور بعض اوقات دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔ بزرگ افراد، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور ذیابیطس یا دل کے مریض سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نیرج نشچل نے عوام سے اپیل کی کہ گرمی کے موسم میں ہلکی اور غذائیت سے بھرپور غذا استعمال کریں، زیادہ سے زیادہ سایہ دار جگہوں پر رہیں اور جسم میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں تاکہ بروقت احتیاط کے ذریعے سنگین بیماریوں سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu