Dailyhunt
Donald Trump's Abusive Post: گالی گلوچ والی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اللہ کا ذکر، مسلم علما نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کی شدید تنقید

Donald Trump's Abusive Post: گالی گلوچ والی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اللہ کا ذکر، مسلم علما نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کی شدید تنقید

Bharat Express 3 weeks ago

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسٹر سنڈے کے روز بھی ایران کے خلاف اپنی سخت اور جارحانہ بیان بازی جاری رکھی۔ انہوں نے ایران پر زبانی حملہ کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کیے جو خاصے چبھنے والے تھے۔ اس پوسٹ کے بعد ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بے باک اور متنازعہ بیانات کے لیے پہلے ہی جانے جاتے ہیں، لیکن Truth Social پر کی گئی اس پوسٹ نے لوگوں کو حیران کر دیا، خاص طور پر ایک عیسائی تہوار کے موقع پر۔

ٹرمپ نے کیا لکھا

اس پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت اور تیکھے الفاظ استعمال کیے۔ اس پوسٹ میں ایران کو دھمکیاں دی گئیں اور گالیوں پر مبنی الفاظ بھی لکھے گئے۔

ٹرمپ نے لکھا،"Open the F**n Strait, you crazy b****s, or you'll be living in Hell - JUST WATCH!"

اس کے بعد ٹرمپ نے مزید لکھا:"Praise be to Allah"

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی دھمکیوں والی پوسٹ پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

کس مسلم تنظیم نے تنقید کی

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ٹرمپ کی زبان کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ "اسلام کا مذاق اڑانا اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکیاں دینا" غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام ہے۔ سی اے آئی آر نے کہا کہ تشدد آمیز دھمکیوں والی اس پوسٹ میں "Praise be to Allah" جیسے الفاظ کا لاپرواہی سے استعمال مذہبی زبان کو ہتھیار بنانے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ مسلمانوں اور ان کے عقائد کے تئیں بے احترامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

تنظیم نے امریکی اراکینِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ خاموش نہ رہیں جبکہ صدر''کھلے عام جنگی جرائم کا وعدہ کر رہے ہیں''۔ تنظیم نے کہا کہ جنگ اور امن جیسے معاملات میں اپنے اختیارات کو دوبارہ قائم کرنا کانگریس کی ذمہ داری ہے۔تنظیم نے مزید کہا کہ یہ بیانات اچانک نہیں آئے بلکہ مسلم مخالف بیانات اور پالیسیوں کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں، جنہوں نے ملک اور بیرونِ ملک مسلمانوں کو غیر انسانی بنا کر پیش کیا ہے۔

امریکہ میں بھی شدید ردِعمل

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق کرس مرفی نے ٹرمپ کے رویے کو "بالکل بے لگام" قرار دیا۔ مرفی ایران کے خلاف جنگ کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو ایسٹر کا دن آئینی وکلا کو امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے بارے میں فون کرنے میں گزارتے، جس کے تحت صدر کے فرائض انجام نہ دے سکنے کی صورت میں اختیارات منتقل کیے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ورجینیا کے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ 79 سالہ ٹرمپ نے اتنی سخت زبان استعمال کی ہو۔ انہوں نے Meet the Press میں کہا کہ ''انہیں بمباری کر کے پتھر کے دور میں واپس بھیج دینا، انہیں گالیاں دینا - یہ سب شرمناک اور بچگانہ ہے''۔

سابق حامی سینیٹر نے بھی اٹھائے سوال

سابق کانگریس رکن مارجوری ٹیلر گرین، جو کبھی ٹرمپ کی سخت حامی رہی ہیں لیکن اب ان کی ناقد بن چکی ہیں، نے بھی اس بیان کی شدید مذمت کی، خاص طور پر ایسٹر سنڈے کے موقع پر۔گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ''ان کی انتظامیہ میں جو بھی خود کو عیسائی کہتا ہے، اسے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر خدا سے معافی مانگنی چاہیے، صدر کی پرستش بند کرنی چاہیے اور ٹرمپ کے اس پاگل پن میں مداخلت کرنی چاہیے۔''انہوں نے مزید کہا کہ ''ہمارے صدر عیسائی نہیں ہیں اور ان کے الفاظ اور اقدامات کی عیسائیوں کو حمایت نہیں کرنی چاہیے۔'' گرین بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu