ممبئی: انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی اور مبینہ بین الاقوامی منشیات اسمگلر سلیم اسماعیل ڈولا کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ممبئی، سورت، انکلیشور اور راجکوٹ سمیت مختلف شہروں میں 20 سے زائد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) 2002 کے تحت کی گئی، جس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی غیر قانونی کمائی اور اس سے جڑے مالیاتی نیٹ ورک کی تہہ تک پہنچنا ہے۔ ای ڈی کے ممبئی زونل دفتر کی جانب سے انجام دی جانے والی اس کارروائی کو حالیہ دنوں میں منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کی جانے والی اہم کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کا مرکزی محور سلیم اسماعیل ڈولا اور اس کے مبینہ ساتھیوں کے ذریعے چلایا جانے والا ایک منظم بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک ہے، جو کئی برسوں سے مختلف ممالک میں سرگرم رہا ہے۔
تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق سلیم ڈولا کا نام طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ اور انڈر ورلڈ سرگرمیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ بھارتی حکومت اسے ترکی سے حوالگی کے عمل کے بعد بھارت لائی تھی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ داؤد ابراہیم کے نیٹ ورک سے وابستہ رہا ہے اور عالمی سطح پر منشیات کی غیر قانونی تجارت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ای ڈی کی موجودہ کارروائی ان افراد، کمپنیوں اور اداروں پر مرکوز ہے جو مبینہ طور پر اس پورے نیٹ ورک کا حصہ رہے ہیں۔ ان میں منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے تاجر، مصنوعی منشیات میفیڈرون بنانے اور سپلائی کرنے والے عناصر، حوالہ آپریٹرز اور وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے نام پر منشیات کی کمائی سے جائیدادیں خریدی گئی تھیں۔
تحقیقات کے دوران ای ڈی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقوم کو کس طرح قانونی شکل دی گئی اور انہیں بھارت سمیت بیرون ملک جائیدادوں، کاروباروں اور دیگر سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کس انداز سے استعمال کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک نہ صرف منشیات کی تیاری اور سپلائی میں ملوث تھا بلکہ حوالہ کے ذریعے مالی لین دین اور کالے دھن کو مختلف ذرائع سے چھپانے کا کام بھی کرتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ای ڈی نے اپنی تحقیقات کا آغاز ممبئی میں سلیم ڈولا اور دیگر ملزمان کے خلاف درج متعدد مقدمات اور ایف آئی آرز کی بنیاد پر کیا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی منظم مجرمانہ نیٹ ورک تھا، جو کیمیکلز کی خریداری، خفیہ لیبارٹریوں میں میفیڈرون کی تیاری، مختلف ریاستوں میں اس کی سپلائی اور بیرون ملک اسمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث تھا۔
کارروائی کے دوران ای ڈی کی ٹیموں نے مختلف مقامات سے اہم دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ، بینک لین دین سے متعلق معلومات اور دیگر مالی شواہد ضبط کیے ہیں۔ تفتیشی حکام ان شواہد کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نیٹ ورک کے مختلف ارکان کے درمیان مالی روابط کس نوعیت کے تھے اور منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کہاں اور کیسے منتقل کی جاتی رہی۔ ای ڈی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایجنسی پورے نیٹ ورک کی ہر کڑی کو جوڑنے اور اس سے وابستہ تمام افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے اس مبینہ بین الاقوامی گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔

