Dailyhunt
Europe Climate Change: یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ سنگین، شدید گرمی اور ماحولیاتی بحران پر عالمی اداروں کا انتباہ

Europe Climate Change: یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ سنگین، شدید گرمی اور ماحولیاتی بحران پر عالمی اداروں کا انتباہ

Bharat Express 2 weeks ago

جنیوا: یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں گرمی کی شدت، جنگلاتی آگ اور ماحولیاتی بحران مزید بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی اداروں کی تازہ رپورٹس کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر تمام براعظموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے اثرات معیشت، ماحولیات اور انسانی صحت پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ورلڈ میٹیرولوجیکل آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ "یورپی اسٹیٹ آف دی کلائمٹ 2025" رپورٹ پیش کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ 1980 کے بعد سے یورپ عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یورپ کو زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ، جو کوپرنیکس کلائمٹ چینج سروس کے تعاون سے تیار کی گئی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ 2025 میں یورپ کو شدید موسمی حالات کا سامنا رہا، جن میں طویل ہیٹ ویوز، جنگلاتی آگ، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور برف کے تیزی سے پگھلنے جیسے عوامل شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یورپ کے تقریباً 95 فیصد حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق براعظم نے اپنی تاریخ کی دوسری شدید ترین ہیٹ ویو کا تجربہ کیا، جبکہ سب آرکٹک خطے فینوسکینڈیا میں جولائی کے دوران مسلسل 21 دن تک گرمی کی لہر جاری رہی، جو اس علاقے میں اب تک کی طویل ترین ہیٹ ویو ہے۔ آرکٹک سرکل کے قریب درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

گرم اور خشک موسم نے یورپ میں جنگلاتی آگ کے واقعات کو بھی ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 10 لاکھ 34 ہزار ہیکٹر رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا، جو قبرص کے کل رقبے سے بھی زیادہ ہے۔ خاص طور پر اسپین میں جنگلاتی آگ سے ہونے والا اخراج براعظم کے کل اخراج کا تقریباً نصف رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف زمینی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بحیرہ روم میں سمندری ہیٹ ویوز کے باعث سی گراس کے میدانوں کو نقصان پہنچا، جبکہ پیٹ لینڈز میں لگنے والی آگ نے حیاتیاتی تنوع کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ڈبلیو ایم او کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق شدید گرمی عالمی زرعی نظام کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق گرمی کے دباؤ کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 500 ارب کام کے گھنٹے ضائع ہو رہے ہیں، جس سے ایک ارب سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

یورپی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یورپی یونین نے 2030 تک 20 فیصد زمینی اور سمندری علاقوں کی بحالی اور 2050 تک اہم ماحولیاتی نظام کو محفوظ بنانے کے اہداف مقرر کیے ہیں، تاہم موجودہ رفتار ناکافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں آنے والے خطرات کا بروقت اندازہ لگا کر ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu