Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
French Navy Intercepts Russian Tanker: فرانسیسی بحریہ نے روسی ٹینکر کو روکا، کریملن نے اسے قرار دیا ''بین الاقوامی سمندری ڈکیتی''

French Navy Intercepts Russian Tanker: فرانسیسی بحریہ نے روسی ٹینکر کو روکا، کریملن نے اسے قرار دیا ''بین الاقوامی سمندری ڈکیتی''

Bharat Express 1 week ago

ماسکو: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کے روز کہا کہ فرانسیسی بحریہ نے بین الاقوامی پابندیوں کے تحت روس سے آنے والے ایک نئے ٹینکر کو روک لیا ہے۔ اس اقدام پر روس نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فرانسیسی کارروائی کو ''بین الاقوامی سمندری ڈکیتی کی حد'' تک پہنچا ہوا عمل قرار دیا۔

کریملن کا سخت ردِعمل

روسی صدر کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے کہا، ''ہم اس قسم کی کارروائیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سمندری ڈکیتی کی حد تک ہے۔'' انہوں نے فرانسیسی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روس اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔

یورپی پابندیوں کا پس منظر

یاد رہے کہ اپریل میں یورپی کونسل نے روس کے خلاف پابندیوں کے بیسویں پیکج کی منظوری دی تھی۔ اس پیکج میں 36 نئی پابندیاں شامل کی گئی تھیں، جن کا ہدف روس کے توانائی کے شعبے کے مختلف حصے تھے، جن میں تیل کی تلاش، پیداوار، ریفائننگ اور نقل و حمل شامل ہیں۔

یورپی حکام کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد روسی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مزید محدود کرنا اور مبینہ ''شیڈو فلیٹ'' نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے، جس میں تیسرے ممالک میں سرگرم ادارے اور ایک بڑی بحری انشورنس کمپنی بھی شامل ہیں۔

بحیرۂ روم میں پہلے بھی کارروائی

جنوری میں بھی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ فرانسیسی بحریہ نے بحیرۂ روم میں کھلے سمندر کے دوران ایک روسی تیل بردار جہاز کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس وقت فرانس نے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ اور سمندری قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

میکرون کا موقف

صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ''فرانسیسی بحریہ نے بین الاقوامی پابندیوں کے تحت روس سے آنے والے ایک اور ٹینکر کو حراست میں لیا ہے۔ ہمارا عزم واضح اور غیر متزلزل ہے۔'' انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن بحرِ اوقیانوس کے بین الاقوامی پانیوں میں برطانیہ سمیت متعدد شراکت دار ممالک کے تعاون سے اور سمندری قوانین کی مکمل پاسداری کے ساتھ انجام دیا گیا۔

روس پر جنگی اخراجات کے لیے فنڈنگ کا الزام

فرانسیسی صدر کے مطابق بعض جہاز بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے، سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور یوکرین کے خلاف جاری روسی جنگ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جہاز ''بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے بنیادی اصولوں کی پابندی نہیں کرتے اور ماحولیات کے ساتھ ساتھ سمندر میں موجود تمام افراد کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔''

روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

فرانسیسی بحریہ کی اس کارروائی کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں اور سمندری قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Bharat Express Urdu